Al-Risala · August 1989 · page 2

مشرک کا حکم

الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۲

مشرک کا حکم

قرآن میں ہے کہ خنزیر کا گوشت نا پاک ہے (اولحم خنزیر فانه رجس)، اسی طرح قرآن میں ہے کہ مشرک نا پاک ہیں (انما المشرکون نجس) اس لفظی اشتراک کی بنا پر کچھ لوگوں نے سمجھ لیا کہ جس طرح خنزیر باعتبار جسم ناپاک ہے ، اسی طرح مشرک بھی باعتبار جسم ناپاک ہے ۔ چنانچہ مشرک کا برتن ، کھانا ، کپڑا اور اس کی تمام چھوئی ہوئی چیزوں کو ناپاک سمجھ لیا گیا ۔ حتی کہ کہا گیا کہ کوئی مسلمان اگر مشرک سے مصافحہ کرلے تو اس کے بعد وہ اپنے ہاتھ کو دھونے اور وضو کر کے اپنے کو پاک کرے وقال اشعث عن الحسن من صافحهم فليتوضأ، تفسير ابن كثير، الجزء الثاني، صفحه ۳۴۶) یہ صحیح نہیں ۔ اگرچہ مذکورہ دونوں آیتوں میں بظاہر یکساں لفظ ہے ، مگر دونوں کا مطلب یکساں نہیں ۔ " "خنزیرنجس ہے " کا مطلب یہ ہے کہ خنزیر کا جسم نجس ہے ۔ اس کے برعکس " مشرک نجس ہے " کا مطلب یہ ہے کہ مشرک کا عقیدہ نجس ہے ۔ جہاں تک مشرک کے بدن کی نجاست کا تعلق ہے ، جمہور کی رائے یہ ہے کہ مشرک کا بدن اور اس کا وجود نجس نہیں ۔ اسی بنا پر اہل کتاب کے کھانے کو جائز ٹھہرایا گیا ہے (وَأَمَّا نجاسة بدنه فالجمهور على انه ليس بنجس البدن والذات لان الله تعالى احل طعام اهل الكتاب ، تفسير ابن كثير، الجزء الثاني، صفحه ۴۴۶) عبد الرحمن الجزيری لکھتے ہیں :

اما قوله تعالى (انما المشرکون نجس) فالمراد اللہ تعالیٰ کا قول کہ مشرکین نجس ہیں ، اس سے به النجاسة المعنوية التي حكم بها الشارع مراد معنوی نجاست ہے جس کا حکم شارع نے وليس المراد ان ذات المشرک بنجسة كنجاسة بیان کیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مشرک کا الخنزير (الفقه على المذاهب الاربعة، الجزء الاول ، وجود نا پاک ہے جس طرح خنزیر کا وجود نا پاک صفحه ۶)

ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے تمام مسائل مسلمانوں میں دعوتی ذہن ختم ہونے کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں ۔ دوسری قوموں کو مدعو سمجھنا انھیں قابل التفات بناتا ہے ۔ مگر جب دوسری قومیں مدعو سمجھی جائیں تو وہ قابل اجتناب بن کر رہ جائیں گی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues

Printed page