Al-Risala · August 1989 · page 9

بے فائدہ معرکہ آرائی

الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۹

بے فائدہ معرکہ آرائی

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم آغازِ نبوت کے بعد تیرہ سال تک مکہ میں رہے۔ وہاں مقدس کعبہ کے اندر ٣٦٠ بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ روزانہ عبادت کے لیے کعبہ میں جاتے تھے۔ مگر آپ نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ تنہا یا اپنے ساتھیوں کو لے کر بتوں کو نکالیں اور ان کو توڑ کر پھینک دیں۔ آپ وقتی طور پر ایسا کر سکتے تھے۔ لیکن اگر آپ ایسا کرتے تو یقینی تھا کہ مکہ کے مشرکوں سے بے نتیجہ ٹکراؤ ہوتا۔ مزید یہ کہ وہ لوگ اگلے ہی دن دوسرے بتوں کو لاکر وہاں رکھ دیتے اور مسلمان انھیں روک نہ پاتے۔ مگر ہجرت کے بعد جب کہ فتح ہو گیا اور مکہ میں آپ کا اقتدار قائم ہو گیا تو آپ نے پہلا کام یہ کیا کہ تمام بتوں کو وہاں سے نکال کر پھینک دیا اور کعبہ کو مقدس عبادت گاہ کی حیثیت سے دوبارہ قائم کر دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبرِ اسلام کا طریقہ نتیجہ رخی (Result-oriented) طریقہ ہے۔ آپ کا طریقہ یہ ہے کہ صرف اس وقت اقدام کیا جائے جب کہ اقدام کو نتیجہ خیز بنانے کا امکان پیدا ہو چکا ہو۔ ایسا اقدام ہرگز نہ کیا جائے جو صرف بے فائدہ ہنگامہ آرائی کرکے ختم ہو جانے والا ہو۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دیکھیے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے سیرتِ رسول کے اس پہلو سے کوئی سبق نہیں لیا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی تمام کارروائیاں اس طریقِ رسول کے سراسر خلاف ہیں۔ ۱٨٣١ میں پنجاب کے رنجیت سنگھ کے خلاف اٹھنے والے شہیدوں سے لے کر ۱۹۸۸ میں اجودھیا کی بابری مسجد کے لیے دھوم مچانے والے غازیوں تک سب جو کچھ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، اس کو ایک لفظ میں ، بے فائدہ معرکہ آرائی کہا جا سکتا ہے۔ اس مدت میں مسلمانوں کے تمام اقدامات یک طرفہ طور پر مسلمانوں کی بربادی پر ختم ہوئے۔ وہ ان کو کوئی مثبت فائدہ نہ دے سکے۔

اس قسم کے ہنگامے یقینی طور پر پیغمبر کی سنت کے مطابق نہیں ۔ وہ جھوٹی ہنگامہ بازی اور بے معنی معرکہ آرائی کے خانہ میں چلنے والی کارروائیاں ہیں نہ کہ سنتِ رسول کی سچی پیروی کے خانہ میں لکھا جانے والا عمل۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues

Printed page