Can you tell me what my true nationality is?
الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۳۳
ہو کر وہ صرف دوسری قوموں کے مدعو بن کر رہ گئے ۔
امریکی مسلمانوں کے بارہ میں ایک رپورٹ پڑھی جس میں بتایا گیا تھا کہ اندازہ کیا گیا ہے کہ امریکہ میں چار ملین کی تعداد میں وہ مسلمان ہیں جو حال میں ہجرت کر کے یہاں آئے ہیں۔ اور چار ملین سے کچھ زیادہ وہ لوگ ہیں جن کو پہلے بلیک مسلم کہا جاتا تھا ، مگر اب وہ بقیہ مسلمانوں کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں اور صرف مسلم کہے جاتے ہیں۔ یہ مسلمان چار ہزار سے زیادہ مسجدوں اور کلچرل مراکز میں اپنے مذہبی اعمال ادا کرتے ہیں :
In the U.S. it is estimated that there are 4 million Muslims of recent immigrants, and more than that of what was referred to, and is no more, of the black Muslims, because now the black Muslims have joined ranks with the rest and are all called Muslims. These Muslims practice their religion in over 400 smaller or larger mosques or cultural centres. امریکہ کے کالے باشندوں (نیگرو) کو پہلے غلام سمجھا جاتا تھا۔ تاہم اب انھیں قانونی طور پر یکساں شہری حقوق حاصل ہیں۔ اگر چہ اپنی تعلیمی پسماندگی کی بنا پر وہ اس قانونی امکان سے ابھی پورا فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔
امریکہ کے بعض نئے مفکرین نے سفید فام باشندوں اور سیاہ فام باشندوں کے درمیان یکساں حقوق کی وکالت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے سیاہ فام باشندے مختلف مگر یکساں (Different but equal) ہیں۔ یہ نہایت صحیح تعبیر ہے۔ ٹھیک یہی معاملہ عورت اور مرد کے فرق کا بھی ہے۔ عورت مرد سے مختلف ہے ، مگر حقوق اور انسانی احترام میں وہ یکساں ہے۔ لیکن امریکی مفکرین نے جس حقیقت کو سیاہ فام اور سفید فام باشندوں کے معاملہ میں سمجھ لیا ہے ، وہ اس حقیقت کو ابھی تک عورت اور مرد کے معاملہ میں سمجھ نہ سکے ۔
اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ سفید فام اور سیاہ فام کے مسئلہ پر انھوں نے کھلے ذہن کے تحت سوچا ، اس لیے وہ اس کی حقیقی نوعیت کو سمجھ گئے۔ مگر عورت اور مرد کے معاملہ میں سوچتے ہوئے ان کی خواہش رکاوٹ بن گئی ۔ اس نفسیاتی پیچیدگی کی بنا پر وہ اس دوسرے معاملہ میں اس کی حقیقی نوعیت کو سمجھنے میں ناکام رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues