قرآن کا فیصلہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۲
قرآن کا فیصلہ
قدیم مدینہ (یثرب میں یہودی بھی آباد تھے اور غیر یہودی (مشرک) بھی ۔ اس زمانہ میں یہودیوں کا یہ حال تھا کہ جب یہودی اور غیر یہودی آپس میں لڑتے ، جب ایک یہودی دوسرے یہودی پر ظلم کرتا تو ان کے رہنما غیر جانبدار بنے رہتے ۔ ایسے مواقع پر انہیں خدا کا یہ حکم یاد نہ آتا کہ ایک شخص دوسرے شخص کی جان ، مال یا آبرو پر حملہ کرے تو اس کو اس سے روکو اور اس وقت تک چین سے نہ بیٹھو جب تک باہمی زیادتی کی یہ برائی معاشرہ سے ختم نہ ہو جائے ۔ مگر اس قسم کا کوئی واقعہ جب یہودی اور غیر یہودی کے درمیان ہوتا ، مثلاً ایک غیر یہودی (مشرک) کسی یہودی کی جان و مال پر تعدی کرتا تو فوراً تمام یہودی بیدار ہو جاتے ۔ یہودی علماء اپنے حجروں سے نکل پڑتے اور یہودی لیڈر پرجوش تقریریں شروع کر دیتے ۔ اب ان کو آسمانی شریعت کی وہ تمام ہدایتیں یاد آجاتیں جو جان اور مال اور آبرو کے احترام کے لیے دی گئی ہیں ۔
یہ دوسرا کام اگرچہ تمام تر خدائی شریعت کے حوالے سے کیا جاتا ، مگر قرآن میں جب ان کی روش پر تبصرہ کیا گیا تو انہیں اس بظاہر دینی عمل پر کسی قسم کا کوئی کریڈٹ نہیں دیا گیا۔ اس کے برعکس ان کے لیے درد ناک سزا کا اعلان کیا گیا۔ کہا گیا کہ یہودی اور یہودی کے درمیان زیادتی کے معاملہ میں تم کو کتاب الہی کا حکم یاد نہیں آتا مگر یہودی اور غیر یہودی کے معاملہ میں تم کتاب الہی کا نام لے کر پرشور تحریک چلاتے ہو۔ یہ دو عملی قابلِ الزام نہیں ، قابلِ سزا ہے۔ جو لوگ ایسا کریں، ان کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ انہیں دنیا میں رسوائی ہو اور آخرت میں شدید ترین عذاب (البقرہ ۸۵)
قرآن کی یہ آیت موجودہ زمانہ کے مسلم علماء اور مسلم رہنماؤں پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ آج مسلمانوں کے درمیان ہر جگہ باہمی زیادتی کے واقعات ہو رہے ہیں ۔ زیادتی اور ظلم کی کوئی قسم ایسی نہیں جو ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے خلاف جائز نہ کیے ہوئے ہو۔ مگر مسلم علماء اور مسلم رہنما ان کے بارہ میں بالکل غیر جانبدار بنے رہتے ہیں۔ البتہ اگر کہیں کوئی غیر مسلم مسلمانوں کے خلاف زیادتی کر دے تو تمام علماء اور تمام رہنما فوراً اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اس قسم کی روش خدا کے نزدیک صرف ایک قابلِ سزا جرم ہے ، نہ کہ کوئی دینی عمل جس پر آدمی کو انعام دیا جائے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues