Al-Risala · September 1989 · page 3

The Bible, The Qur'an and Science

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳

قرآن ایک معجزہ ہے اپنے معنی کے لحاظ سنے بھی اور اپنے الفاظ کے لحاظ سے بھی۔ ایک شخص عربی زبان جانتا ہو اور وہ قرآن میں غور وفکر کرے تو وہ اس کے اندر معانی کے اعتبار سے خدائی عظمت کا ادراک کرے گا۔ لیکن اگر ایک شخص اس کے معانی پر دھیان نہ دے، وہ صرف اس کی آواز سے تب بھی وہ اس سے غیر معمولی نوعیت کا گہرا تاثر لیے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ تاریخ میں دونوں قسم کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ پہلی نوعیت کی بھی اور دوسری نوعیت کی بھی۔ فرانس کے پروفیسر ماریس بکائی (Maurice Bucaille) قرآن کی معنوی عظمت سے متاثر ہوئے اور انھوں نے قرآن کے گہرے مطالعہ کے بعد وہ کتاب لکھی جو حسب ذیل نام سے عمومی شہرت حاصل کر چکی ہے :

The Bible, The Qur'an and Science

انگلستان کے پروفیسر آربری (Arthur J Arberry) ایک بار تیونس میں مقیم ہوئے ۔ ان کے پڑوس میں ایک مسلمان کا مکان تھا۔ ایک روز مسلمان ریڈیو پر قرآن کی قرات سُن رہا تھا۔ یہ آواز پر و فیسر آربری کے کان میں پہنچی۔ وہ اس سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوئے ۔ اس کے بعد انھوں نے قرآن کا مطالعہ شروع کیا، ان کی دلچسپی یہاں تک بڑھی کہ انھوں نے قرآن کا مکمل ترجمہ انگریزی زبان میں کر ڈالا۔ یہ ترجمہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے حسب ذیل نام کے تحت شائع ہوا ہے :

The Koran Interpreted

قرآن ایک ایسا کلام ہے جو اپنے اندر بے پناہ تسخیری قوت رکھتا ہے۔ اپنی خاموش معنویت کے اعتبار سے بھی، اور اپنی غیر معمولی ربانی آواز کے اعتبار سے بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues

Printed page