Al-Risala · September 1989 · page 16

سلیقہ مندی

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۶

اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے آمدنی اور لاگت کے فرق کو نہیں سمجھا۔ مثلاً ان کی دکان پر اگر ۵ ہزار روپیہ کا کپڑا بکے تو اس میں ساڑھے چار ہزار روپیہ لاگت کا ہوتا تھا اور ۵۰۰ روپیہ آمدنی کا۔ مگر وہ دکان میں آئی ہوئی رقم کو اس طرح خرچ کرنے لگے جیسے کہ ۵ ہزار کی پوری رقم آمدنی کی رقم ہو۔ ظاہر ہے کہ یہ فضول خرچی کی بدترین شکل تھی ۔ چنانچہ چند سال میں وہ دیوالیہ ہو کر ختم ہو گئے ۔ اس دنیا میں سلیقہ مند زندگی کا نام خوش حالی ہے اور بے سلیقہ زندگی کا نام بد حالی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues

Printed page