یقینی کامیابی
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲
یقینی کامیابی
ایک بُت پرست دُکاندار کو میں نے دیکھا کہ وہ روزانہ صبح کو پتھر کی بنی ہوئی مُورتی کو پوجتا ہے، اور اس کے بعد بازار جا کر اپنی دُکان کھولتا ہے۔ وہ اپنی دُکان داری میں کافی کامیاب تھا۔ ایک روز میں نے اس سے پوچھا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ یہ ہمارے دیوتا ہیں۔ جب ہم ان کی پوجا کر لیتے ہیں تو ہم کو پورا وشواش ہو جاتا ہے کہ اب ہم ان کی مدد سے ضرور کامیاب ہوں گے۔ یہ دیوتا ہمارے لیے سرچشمہ اعتماد (Source of confidence) ہیں ۔
کامیابی کا سب سے بڑا راز صرف ایک ہے ۔ اور وہ اعتماد ہے ۔ ایک شخص اگر فرضی اور بے حقیقت دیوتاؤں کی بنیاد پر بھی اپنے اندر اعتماد کا جذبہ پیدا کرلے تو وہ بھی اس دنیا میں کامیاب ہو جائے گا۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر کسی شخص کو سچے خدا پر یقین ہو اور اس کی بنیاد پر اس کے اندر اعتماد کی کیفیت پیدا ہو جائے تو وہ اپنے منصوبوں میں کتنا زیادہ کامیابی حاصل کر سکتا ہے ۔ حدیث میں آیا ہے کہ مَن صَلَّی الصُّبحَ فھو فِی ذِمَّۃِ اللّٰہ یعنی جس شخص نے صبح کی نماز ادا کرلی وہ اللہ کی ذمہ داری (Guarantee) میں آ گیا ۔ گویا صبح (فجر) کی نماز پورے دن کے لیے آدمی کو مالک کائنات کی سرپرستی اور نگرانی میں دیدیتی ہے ۔ اس کے بعد یہ خدا کا ذمہ ہو جاتا ہے کہ وہ ہر خطرہ کے موقع پر آدمی کی حفاظت کرے ، وہ ہر ممکن مدد کے ذریعہ اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچائے۔ آدمی رات کے وقت آرام کرتا ہے ۔ اس کے بعد صبح ہوتی ہے تو وہ تیار ہو کر اپنے کام کے لیے گھر سے باہر جاتا ہے ۔ اب اگر آدمی اپنے اندر خدائے واحد کا یقین پیدا کرلے اور رات گزار کر صبح کو اُٹھے تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے باہر نکلے تو وہ پورے اعتماد کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوگا۔ اس کا دل اس سے کہے گا کہ کامیابی تمہارے لیے مقدر ہوچکی ہے۔ اب تمہارے لیے ناکامی کا کوئی سوال نہیں۔ جو آدمی اس اعتماد کے ساتھ زندگی کے کاروبار میں داخل ہو وہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ محنت کرے گا۔ وہ دشوار گزار راستہ میں بھی اس یقین کے ساتھ گھستا چلا جائے گا کہ اس کے دوسری طرف یقینی کامیابی تمہارا انتظار کررہی ہے۔
ایسے آدمی کے لیے خدا کی اس دنیا میں کامیابی کے سوا کوئی اور چیز مقدر نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues