دو کردار
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۷
دو کردار
بنو عباس نے بنو امیہ سے اقتدار چھینا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے اموی خاندان کے ایک۔ ایک فرد کو قتل کرنا شروع کیا تاکہ کوئی تخت کا دعویدار باقی نہ رہے۔ تاہم ان کا ایک نوجوان عبدالرحمن الداخل، ان کی پکڑ سے بچ گیا۔ وہ دمشق سے بھاگ کر اسپین پہنچا۔ وہاں اس نے بنوامیہ کی مشہور سلطنت قائم کی۔
بنو عباس کا دار السلطنت بغداد تھا اور اسپین کی اموی حکومت کا دار السلطنت قرطبہ۔ مذکورہ تاریخی پس منظر کی وجہ سے دونوں میں مسلسل رقابت رہتی تھی۔ فرانس اس سمندر پار اموی سلطنت کا پڑوسی تھا۔ بغداد نے یہ کیا کہ اس نے فرانس کے عیسائی حکمران کی خدمت میں قیمتی تحفے روانہ کیے اور اس کی حوصلہ افزائی کی تاکہ وہ اسپین کی اموی حکومت کے خلاف کارروائی کرکے بغداد کے انتقامی جذبات کی تسکین کرے ۔
دوسری طرف بغداد کی عباسی سلطنت کا پڑوسی قسطنطنیہ تھا۔ سابق رومی شہنشاہیت کا وارث قیصر اپنی سلطنت کا بڑا حصہ کھو کر اس وقت قسطنطنیہ میں اپنا مرکز قائم کیے ہوئے تھا۔ قیصر نے سوچا کہ بغداد جس طرح اسپین پر حملہ کرنے کے لیے فرانس کے عیسائی حکمران کی مدد کر رہا ہے، اسی طرح اگر میں بغداد کے خلاف مہم شروع کروں تو قرطبہ کی طرف سے مجھے مدد حاصل ہوگی۔ اس امید کے تحت قیصر قسطنطنیہ نے ۲۰۹ ھ میں اپنا ایک سفیر قرطبہ کے اموی حکمران عبدالرحمن الثانی کے پاس بھیجا۔ بظاہر عبدالرحمن الثانی کو قیصر کے سفیر کا زبر دست خیر مقدم کرنا چاہیے تھا۔ کیوں کہ وہ اس کے دشمن کے خلاف چڑھائی کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ اس طرح وہ بغداد کے خلاف اپنے انتقامی جذبات کی تسکین حاصل کر سکتا تھا۔ مگر عبدالرحمن نے اس کی طرف توجہ نہیں کی۔ قیصر کے سفیر نے عبدالرحمن الثانی سے کہا کہ اگر آپ قیصر سے دوستی کریں تو اس کے تعاون سے آپ اپنی آبائی سلطنت (شام، عراق، عرب، وغیرہ) عباسیوں سے واپس لے سکتے ہیں۔ مگر عبدالرحمن الثانی نے قسطنطنیہ کے سفیر کو رسمی باتیں کرکے لوٹا دیا۔ انتقامی جذبات کی تسکین کے لیے دشمن کے دشمن کو دوست بنانا ایک سطحی فعل ہے۔ اعلیٰ انسان وہ ہے جو اس قسم کے جذبات سے اوپر اٹھ جائے جو اصول کی بنا پر لوگوں سے معاملہ کرے نہ کہ دوستی اور دشمنی کی بنا پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues