بلند فکری
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۰
بلند فکری
ٹوکیو کے ایک اشاعتی ادارہ نے ۱۶۰ صفحات کی ایک کتاب چھاپی ہے ۔ یہ جاپانی سماج اور جاپانی انسان کے مزاج کا تعارف ہے ۔ اس کا نام یہ ہے :
Chie Nakane, Japanese Society (1987)
اس کتاب کی مصنف ایک خاتون چی ناکین ہیں جو ٹوکیو یونیورسٹی میں سوشل اینتھراپالوجی کی پروفیسر ہیں۔ انھوں نے تفصیلی معلومات دے کر بتایا ہے کہ جاپانیوں کا ذہن (Mental make-up) کیا ہے۔ ان کے بیان کے مطابق ، جاپانی انسان کی ذہنی ساخت کو مختصر طور پر اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ۔ اس بات کی مسلسل خواہش کہ وہ اوسط سے اوپر اٹھ سکے :
The constant desire to rise a little higher than the average (p. 155). صاحب کتاب کے نزدیک یہی جاپانیوں کا طریقِ زندگی ہے۔ وہ اس کو مذہبی تعلیم کی طرح مقدس مان کر ہمیشہ اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
زندگی میں ٹھہراؤ نہیں۔ آدمی یا تو نیچے گرے گا یا اوپر اٹھے گا۔ یہ اصول اتنا قطعی ہے کہ اگر اپنے آپ کو اوپر نہ اٹھائیں تو آپ خود بخود نیچے جانا شروع کر دیں گے۔ نیچے گرنے کے لیے کسی مزید کوشش کی ضرورت نہیں ۔
یہ اصول دین اور دنیا دونوں معاملہ میں یکساں طور پر درست ہے ۔ حقیقی مومن وہ ہے جس کا ایمان مسلسل بڑھ رہا ہو۔ جس آدمی کے ایمان میں اضافہ کا عمل رک جائے، وہ ایمانی تنزل کی طرف اپنا سفر شروع کر دے گا۔ یہاں کسی ایک حالت میں ٹھہراؤ ممکن نہیں ۔
یہی معاملہ دنیا کا ہے۔ دنیا کے معاملات میں بھی آدمی کو مسلسل ترقی کی طرف اپنا سفر جاری رکھنا ہے۔ جو شخص ترقی کی طرف اپنا سفر جاری نہ رکھ سکے وہ اولاً جمود کا شکار ہو جائے گا اور اس کا پر دھرے سے ختم ہو جائے گا ہمیشہ اپنے ارتقاء کے لیے فکر مند رہے اور اللہ کے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues