سوچ کا فرق
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۲
سوچ کا فرق
فریڈرک لینگ برج (Frederick Langbridge) انگریزی کا ایک شاعر ہے۔ وہ ۱۸۴۹ء میں پیدا ہوا ، ۱۹۲۳ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا ایک شعر ہے کہ رات کے وقت دو آدمی جنگلہ کے باہر دیکھتے ہیں ۔ ایک شخص کیچڑ دیکھتا ہے اور دوسرا شخص ستارہ :
Two men look out through the same bars One sees the mud, and one the stars. یہی بات ایک فارسی شاعر نے زیادہ بہتر طور پر اس طرح کہی ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان جو فرق ہے وہ سننے کا فرق ہے ۔ ایک آواز آتی ہے۔ تم اس کو دروازہ بند کرنے کی آواز سمجھتے ہو اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ دروازہ کھلنے کی آواز ہے :
تفاوت است میان شنیدن من و تو تو غلق باب و منم فتح باب می شنوم درخت میں کانٹے کے ساتھ پھول بھی ہوتا ہے۔ یہی حال انسانی سماج کا ہے۔ سماجی حالات بظاہر خواہ کتنے غیر موافق ہوں، ہمیشہ اس کے اندر موافق پہلو بھی ساتھ ساتھ موجود رہتا ہے۔ ایک شخص جو چیزوں کو صرف ظاہری طور پر دیکھنے کی نگاہ رکھتا ہو، وہ سطحی چیزوں کو دیکھے گا، اور زیادہ گہرے پہلوؤں کو دیکھنے میں ناکام رہے گا۔ مگر جو شخص گہری نظر رکھتا ہو وہ زیادہ دور تک دیکھے گا اور ناموافق پہلو کے ساتھ موافق پہلو کو دریافت کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اس دنیا میں کیچڑ بھی ہے اور یہاں ستارے بھی ہیں۔ یہ دیکھنے کی بات ہے کہ کون شخص کس چیز کو دیکھتا ہے اور کون شخص کس چیز کو۔ ایک ہی آواز ہے، مگر نادان آدمی اس کو دیکھ کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ دروازہ بند ہو گیا۔ اور دانش مند آدمی سمجھتا ہے کہ دروازہ اس کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
تمام مسائل ہمیشہ ذہن میں پیدا ہوتے ہیں، اور ذہن کے اندر ہی ان کو ختم کیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ آدمی کے اندر صحیح سوچ کا مادہ پیدا ہوجائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues