چپ رہیے
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴
چپ رہیے
قرآن میں ہے کہ کان اور آنکھ اور دل ، ہر چیز کے بارہ میں انسان سے پوچھ ہوگی (بنی اسرائیل ۳۶) حدیث میں آیا ہے کہ تم میں جو شخص فتویٰ دینے میں زیادہ جری ہے وہ جہنم کے اوپر زیادہ جری ہے (اجرؤکم علی الفتوی اجرؤکم علی النار)
اس بنا پر صحابہ کرام فتویٰ دینے میں انتہائی احتیاط برتتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ عبداللہ ترازو میں اُحد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہیں ۔ (عبداللہ اثقل في الميزان من احد) اس کے باوجود ان کا یہ حال تھا کہ وہ کوفہ میں تھے۔ ان سے ایک معاملہ میں پوچھا گیا تو انھوں نے جواب نہیں دیا۔ لوگ ان سے مہینہ بھر پوچھتے رہے۔ یہاں تک کہا کہ اگر آپ ہی فتویٰ نہ دیں تو ہم کس سے پوچھیں ۔ پھر بھی انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا (فی سنن ابی داؤد ان ابن مسعود كان في الكوفة فسئل عن امر فلم يجب - فاختلفوا اليه شهراً ولم يجب ـ وفي رواية : من نسأل اذا لم تفتنا)
حضرت عبداللہ بن عمر ہمیشہ فتویٰ دینے سے پرہیز کرتے تھے۔ لوگ جب زیادہ اصرار کرتے تو کہتے کہ ہماری پیٹھ کو جہنم کے لیے سواری نہ بناؤ (لا تجعلوا ظهورَنا مطايا الى جهنم) ان روایات میں فتویٰ سے مراد کوئی محدود فتویٰ نہیں ہے۔ اس کا تعلق ان تمام امور سے ہے جو مسلمانوں کو پیش آتے ہیں اور جن میں وہ اپنے علماء اور اپنے رہنماؤں سے رائے پوچھتے ہیں۔ ایسے امور میں علماء اور رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ بولنے سے زیادہ سوچیں۔ وہ اس وقت تک کوئی بیان نہ دیں جب تک اس معاملہ میں مشورہ اور مطالعہ اور غور وفکر کی تمام شرطوں کو آخری حد تک پورا نہ کر چکے ہوں ۔ ایسے امور میں نہ بولنا اس سے بہتر ہے کہ آدمی غیر ذمہ دارانہ طور پر بولنے لگے۔
اجتماعی معاملات میں رائے دینا انتہائی نازک ذمہ داری ہے، کیوں کہ اگر رائے غلط ہو تو لوگوں کو نامعلوم مدت تک اس کا نقصان بھگتنا پڑتا ہے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ اگر وہ بولنا چاہتا ہے تو پہلے اس کی تمام شرطوں کو پورا کرے ، اس کے بعد اپنی رائے کا اظہار کرے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues