Al-Risala · November 1989 · page 8

پیغمبر کا طریقہ

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۸

پیغمبر کا طریقہ

سیرت رسول کے مشہور راوی ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی قوم کے سامنے اسلام کا اظہار کیا اور کھلم کھلا اس کا اعلان فرمایا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا تھا تو آپ کی قوم نے آپ سے دوری اختیار نہ کی اور نہ انھوں نے آپ کا انکار کیا۔ یہاں تک کہ آپ نے ان کے بتوں کا ذکر کیا اور ان پر عیب لگائے ۔ جب آپ نے ایسا کیا تو انھوں نے آپ کے معاملے کو اہمیت دی اور آپ سے اجنبیت برتنے لگے۔ وہ آپ کی مخالفت اور دشمنی پر متحد ہو گئے۔ سوا ان لوگوں کے جنھیں اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعہ بچالیا۔ ایسے لوگ تھوڑے تھے اور چھپے ہوئے تھے :

فلما بادی رسول الله صلى الله عليه وسلم قومه بالاسلام وصدع به كما امره الله لم يبعد منه قومه ولم يردوا عليه ۔ حتى ذكر آلهتهم وعابها۔ فلما فعل ذلك اعظموه وناكرونه وجمعوا خلافته وعداويته الا من عصم الله تعالى منهم بالاسلام وهم قليل مستخفون (سيرة ابن هشام، الجزء الاول، صفحه ۶۷-۲۷۵)

قدیم عرب کے مشرکوں کے بت دراصل ان کے قومی اکابر رکھتے جن کی تصویر بنا کر وہ ان کی تعظیم اور پرستش کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تک توحید اور اخلاق کی بات کرتے رہے، تو مشرکین نے آپ کی بات کو برا نہ مانا۔ مگر جب آپ نے غیر خداؤں کی تقدیس اور پرستش کو غلط بتایا اور مشرکین کی غیر خدا پرستانہ روش پر تنقید کی تو وہ بگڑ گئے۔ یہی ہر زمانہ کا معاملہ ہے۔ اگر لوگوں کے سامنے عمومی انداز میں صرف اخلاق اور انسانیت کی باتیں کیجیے تو ہر ایک آپ سے راضی رہے گا۔ لیکن اگر حق کی عمومی دعوت کے ساتھ لوگوں کی خلافِ حق روش پر تنقید کی جائے اور ان کے اکابر کا تجزیہ کیا جانے لگے تو فوراً لوگ بپھر اٹھیں گے ۔ مگر پیغمبر کا طریقہ یہی ہے کہ دعوت کے ساتھ تجزیہ بھی کیا جائے ۔ نصیحت کے ساتھ تنقید بھی کی جائے۔ جو لوگ غیر خدا کو خدا کا مقام دیتے ہوئے ہوں وہی تنقید پر بپھرتے ہیں۔ جو لوگ ایک خدا کی عظمتوں میں جی رہے ہوں، وہ کسی انسان پر تنقید سے کبھی نہیں بپھریں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues

Printed page