صاحب معرفت
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲
صاحب معرفت
ایک روایت کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حیا اور کلام سے عاجز ہونا ایمان میں سے ہے ۔ ( الحیاء والعی من الایمان) بعض صوفیاء کا قول ہے کہ جس شخص کو اللہ کی پہچان ہو جائے ، اس کی زبان گویائی سے تھک جائے گی (من عرف الله کل لسانه)۔ جس طرح خالی برتن زیادہ آواز دیتا ہے ، اور جو برتن بھرا ہوا ہو اس میں آواز کم ہو جاتی ہے۔ کم پانی میں پتھر پھینکیں تو بہت زیادہ تموج ہو گا۔ مگر سمندر میں پتھر پھینکئے تو اس میں اس کی وجہ سے کوئی تموج نہیں ہوتا ۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ خالی انسان زیادہ بولتا ہے اور بھرا ہوا انسان ہمیشہ کم بولتا ہے ۔
اللہ کی معرفت سب سے بڑی حقیقت کی معرفت ہے ۔ آدمی جب اللہ کو اس کی اتھاہ عظمتوں اور اس کے بے پایا ں کمالات کے ساتھ پا تا ہے تو اپنا وجود اس کو بالکل حقیر معلوم ہونے لگتا ہے ۔ اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اللہ سب کچھ ہے ، اور اس کے مقابلہ میں میں کچھ نہیں ہوں ۔ یہ احساسِ فروتنی اس کی زبان کو بند کر دیتا ہے ۔ وہ حیرانی کی کیفیت میں گم ہو کر رہ جاتا ہے ۔ مزید یہ کہ اللہ کی معرفت آدمی کے اندر ذمہ داری اور جواب دہی کے شعور کو جگاتی ہے ۔ وہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ ہر ہر کام اور ہر ہر بول کا مجھے قادر مطلق کے سامنے حساب دینا ہے ۔ یہ احساس اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ناپ تول کر بولے ۔ وہ کہنے سے پہلے سوچے اور اظہار سے پہلے احتساب کرے ۔ خدا کی معرفت آدمی کے اندر سنجیدگی پیدا کرتی ہے ، اور سنجیدگی ، عین اپنے مزاج کے مطابق ، آدمی کو خاموش کر دیتی ہے ۔
خاموشی کوئی سلبی کیفیت نہیں ، وہ عین ایجابی عمل ہے ۔ خاموش آدمی یہ بتا رہا ہوتا ہے کہ وہ گہرا آدمی ہے ۔ وہ بلند تر حقیقتوں کو پائے ہوئے ہے۔ خاموشی اس بات کی علامت ہے کہ آدمی بولنے سے پہلے سوچتا ہے ۔ وہ کرنے سے پہلے اپنے کرنے کو تولتا ہے ۔ خاموشی فرشتوں کے ساتھ مشابہت ہے ۔ کیوں کہ فرشتے خاموش زبان میں بولتے ہیں ۔ جس آدمی کو فرشتوں ` کی ہم نشینی حاصل ہو جائے ، وہ خاموش زیادہ دکھائی دے گا اور بولتا ہوا کم ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues