Al-Risala · December 1989 · page 9

مہنگی قیمت

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۹

مہنگی قیمت

۱۱ مئی ۱۹۸۹ کو محمد نظیر امام الدین صاحب (۳۷ سال) سے ملاقات ہوئی۔ وہ دھولیہ (مہاراشٹر) کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے دھولیہ میں ہونے والے ایک فرقہ وارانہ فساد کی تفصیل بتائی۔ جو مارچ ۱۹۸۹ میں ہوا تھا۔

دھولیہ میں مچھلی بازار کی مسجد کے سامنے پانی کا نل لگا ہوا ہے ۔ یہ نل مسجد کا ہے، تاہم عام لوگ بھی اس سے پانی بھرتے ہیں۔ ۲۲ مارچ ۱۹۸۹ کو ہولی کا دن تھا۔ کچھ ہندو نوجوان ایک ٹینکر لے کر آئے اور اس نل سے پانی بھرنے لگے۔ ایک ٹینکر وہ بھر کر لے گئے ۔ اس کے بعد وہ دوسرا ٹینکر لے کر آئے اور دوبارہ اس نل سے پانی بھرنا شروع کیا۔ ان میں سے کسی نے مسجد کی دیواروں پر پانی پھینک دیا۔ وہاں ایک کھڑکی تھی جس سے پانی اندر تک چلا گیا۔ مسلمانوں نے اعتراض کیا کہ ابھی تک تو آپ ٹینکر بھر رہے تھے ، اب آپ مسجد پر ہولی کا پانی بھی ڈال رہے ہیں۔

پہلے دونوں کے درمیان لفظی تکرار ہوئی۔ اس کے بعد ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔ شور و غل سن کر دونوں فرقہ کے لوگ بڑی تعداد میں جمع ہو گئے ۔ اب باقاعدہ لڑائی ہونے لگی۔ آخر میں پولیس آئی۔ اس نے فائرنگ کی ۔ اس فائرنگ میں دو مسلمان مر گئے۔ تقریباً دس مسلمان زخمی ہو کر اسپتال میں پہنچائے گئے ۔ ۸۰ مسلمانوں پر مقدمہ قائم ہوا جو اب تک جاری ہے۔

میں نے محمد نظیر امام الدین صاحب سے کہا کہ ہولی کے دن ہندو لوگ اکثر شراب اور بھنگ کے نشے میں ہوتے ہیں ۔ ایسی حالت میں ان سے الجھنا ہرگز عقل مندی کی بات نہیں۔ مسلمانوں کو اگر مسجد پر پانی پھینکنے یا دو ٹینکر بھرنے پر اعتراض تھا تو وہ خوش تدبیری سے بھی اس کا حل نکال سکتے تھے ۔ ایسے موقع پر مشتعل ہو کر لڑائی چھیڑ دینا کسی طرح بھی دانش مندی نہیں ۔

میں نے کہا کہ مسلمانوں نے جو کچھ کیا وہ عقلمندی نہ تھی۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دو ٹینکر بھرے جانے پر صبر کر لیں تاکہ مسلمانوں کی جانیں بچ جائیں۔ وہ دیوار پر پانی یا رنگ چھڑکنے کو برداشت کر لیں تاکہ سڑک پر ان کا خون نہ چھڑکا جائے ۔ محمد نظیر امام الدین صاحب نے میری رائے سے پورا اتفاق کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues

Printed page