Al-Risala · December 1989 · page 11

بے بصیرت، بابصیرت

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۱

بے بصیرت، بابصیرت

دن اور رات کا فرق اس شخص کے لیے ہے جو بینا ہو۔ جو شخص بینا نہ ہو اس کے لیے دن اور رات کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اس کے لیے دن بھی ویسا ہی ہے جیسے رات۔ اس کے لیے زندگی تاریکیوں کا ایک اتھاہ سمندر ہے جہاں کوئی اجالا نہیں۔ اس کے لیے دنیا ایک لامحدود تاریک خلا ہے جس میں روشنی کی کوئی کرن نہیں ۔

یہی حال معانی کے اعتبار سے اس انسان کا ہے جو بصیرت سے خالی ہو۔ ایسے انسان کے لیے حق اور ناحق میں کوئی فرق نہیں۔ اس کے نزدیک سچ بھی ویسا ہی ہوگا جیسا جھوٹ۔ اس کے لیے ظلم بھی ویسا ہی ہوگا جیسے انصاف۔ اس کے لیے غضب اور خیانت کے کام بھی ویسے ہی ہوں گے جیسے حق پرستی اور دیانت داری ۔

بے بصیرت اور بابصیرت انسان کے درمیان اس سے بھی زیادہ بڑا فرق وہ ہے جو حقائق کے فہم کے بارے میں پیدا ہوتا ہے ۔ بصیرت والے آدمی کے اندر ایک قوت تمیز زندہ ہوتی ہے جو سچائی کو سچائی کے روپ میں اور جھوٹ کو جھوٹ کے روپ میں دکھاتی ہے ۔ اس کا کلام سطحیات اور تضاد اور ظاہری لفظی سے خالی ہوتا ہے ۔ وہ ہمیشہ لگتی ہوئی بات کہتا ہے ۔ اس کی زبان حقیقت کے مطابق کھلتی ہے ۔ وہ وہی بات کہتا ہے جو کہنا چاہیے، اور وہ بات نہیں کہتا جو از روئے حقیقت کہنے والی بات نہیں۔ اس کے برعکس جو آدمی بے بصیرت ہو، اس کی سمجھ اندھیروں میں بھٹکنے والی سمجھ ہوتی ہے ۔ وہ کبھی کچھ کہتا ہے اور کبھی کچھ ۔ اس کا کلام سطحیات اور متضاد باتوں کا مجموعہ ہوتا ہے ۔ اس کی باتیں معانی سے خالی اور الفاظ سے بھری ہوئی ہوتی ہیں ۔ اس کا کلام مطابق واقعہ کلام نہیں ہوتا۔ اس کا بیان صحت رائے سے خالی ہوتا ہے ۔

آپ ایک بینا آدمی کو دیکھیں تو اس کے چہرے پر رونق دکھائی دے گی ۔ اس کے برعکس نابینا آدمی کے چہرے پر ایک قسم کی بے رونقی چھائی ہوئی ہوتی ہے ۔ یہی حال بے بصیرت کلام اور بابصیرت کلام کا ہے ۔ ایک صاحب ذوق آدمی چند جملے سن کر یا چند سطریں پڑھ کر یہ جان لیتا ہے کہ صاحب کلام بے بصیرت انسان ہے یا بابصیرت انسان ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues

Printed page