پرتی کریا میں جنا حب گرن پیچھے دھکیلتا ہے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲۱
خط میں اپنا تبصرہ روانہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اگرچہ میں ایک پیدائشی ہندو ہوں مگر میں کسی بھی مذہب میں عقیدہ نہیں رکھتا۔ خواہ وہ ہندو مذہب ہو یا اور کوئی مذہب۔ البتہ میں انسانیت اور انسانی شرافت کا دل سے قائل ہوں۔ وہ مزید لکھتے ہیں :
ہندوؤں کی بڑی تعداد کٹر مذہبی ہے مگر وہ صبح و شام پیسہ کمانے میں مشغول رہتے ہیں، اور رسوم وروايَات کی تعمیل میں لگے رہتے ہیں تاکہ اپنے خود غرضانہ مقاصد کو پورا کر سکیں ۔ اور اسی مسٹرکے ساتھ اس کوشش میں مصروف رہتے ہیں کہ وہ دوسری دنیا میں سورگ میں اپنے لیے ایک جگہ خرید سکیں ۔ ان کے پاس وقت نہیں ہے کہ وہ فساد جیسی پرتشدد چیزوں میں حصہ لیں۔ اور چوں کہ ان کے پاس مادی سازوسامان کافی موجود ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ فسادات کے نتیجہ میں وہ بہت کچھ کھو دیں گے ۔ مگر جب وہ دوسرے فرقوں کی طرف سے آخری حد تک چھیڑ دیے جاتے ہیں تو بعض اوقات ان کی ناراضگی ابُل پڑتی ہے۔ مگر بہت زیادہ دیر تک کے لیے نہیں ۔ کے ایل دتہ کے اس نقطہ نظر سے میں متفق ہوں ۔ ہندو بنیادی طور پر ایک تاجر پیشہ قوم ہیں۔ اور فساد اور اس کے نتیجہ میں کرفیو کا سب سے زیادہ نقصان تاجر طبقہ ہی کو پہنچتا ہے۔ اس لیے اصولی طور پر ہندو ، بحیثیت قوم ، فساد کو پسند نہیں کر سکتے ۔ پھر فساد کیوں ہوتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندو سب کے سب تاجر نہیں ہیں ۔ ان میں ایک طبقہ غیر تاجروں اور غریبوں کا ہے ۔ یہی دوسرا طبقہ اکثر اوقات فساد کا ابتدائی سبب بنتا ہے۔ اس دوسرے طبقہ کا کوئی فرد ایک مسلمان کے ساتھ کوئی اشتعال انگیز کارروائی کرتا ہے، اور ایسا ہونا کسی آزاد سماج میں بالکل فطری ہے۔ اس وقت مسلمان بے برداشت ہو جاتا ہے۔ وہ اشتعال انگیزی کی صورت میں مشتعل ہو کر لڑنے لگتا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues