زبان کی طاقت
الرسالہ، فروری ۱۹۸۹، صفحہ ۷
زبان کی طاقت
المتنبی ( ۳۵۲ - ۳۰۳ھ) مشہور عرب شاعر ہے۔ وہ کوفہ میں پیدا ہوا۔ اور بغداد میں اس کی وفات ہوئی ۔ اس کا ایک شعر ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ تمہارے پاس اگر گھوڑا اور مال نہیں ہے جس کو تم اپنے محبوب کو ہدیہ کر سکو، تو تمہیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ تمہارا حال اگر تمہارا ساتھ نہیں دیتا تو تمہاری گویائی تمہارا ساتھ دے گی :
لا خيل عندك تهديهـا ولا مال فليـسعـد النطق إن لم تسعـد الحَالُ گویائی (نطق)اللہ اللہ تعالیٰ کی بڑی عجیب نعمت ہے۔ یہ انسان کے پاس ایک ایسی طاقت ہے جو ہر دوسری طاقت پر بھاری ثابت ہوتی ہے، بشرطیکہ اس کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے ۔ یہ دولت سے زیادہ قیمتی ہے اور ہتھیار سے زیادہ موثر۔ اس کے ذریعہ مفتوح اپنے فاتح کو جھکا سکتا ہے اور مغلوب اپنے غالب کو زیر کرلیتا ہے ۔
حافظ حامد حسن علوی (۱۹۵۹ء - ۱۸۷۲) نہایت ذہین آدمی تھے۔ گفتگو میں کوئی شخص ان کے مقابلہ میں ٹک نہیں سکتا تھا۔ اسی کے ساتھ وہ پر جلال شخصیت کے مالک تھے۔ انھوں نے بتایا کہ زندگی میں صرف ایک بار ایسا ہوا ہے کہ میں کسی شخص کے مقابلہ میں بالکل لاجواب ہو گیا۔ اس کا ایک فقرہ میری ساری ذہانت پر بھاری ثابت ہو گیا اور میرے لیے چپ ہو جانے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا ۔ حافظ حامد حسن علوی کچھ معزز لوگوں سے گفتگو میں مصروف تھے۔ اتنے میں ایک فقیر عورت آگئی۔ اس نے کہا " بابا کچھ دیدے " وہ لوگ متوجہ نہیں ہوئے تو عورت نے اپنے سوال کو کئی بار دہرایا ۔ حافظ صاحب مرحوم کو عورت کا بار بار سوال کرنا گفتگو میں بے جا مداخلت محسوس ہوا۔ انھوں نے کسی قدر خفگی کے ساتھ کہا: بہت بیوقوف ہے۔ اس کے بعد عورت نے کہا: "ہاں بابا، غریب بیوقوف ہی ہوتا ہے " یہ کہہ کر عورت چلی گئی۔ حافظ صاحب مرحوم اس کے جملہ کی تاب نہ لا کر خاموش ہوگئے ۔ اس کے بعد وہ اس مجلس میں کچھ بول نہ سکے۔ بعد کو انھوں نے کہا : اب تک کوئی شخص مجھے لاجواب نہ کر سکا تھا، اس غریب عورت نے مجھے لاجواب کر دیا۔ آپ کے پاس اگر کچھ نہ ہو، تب بھی آپ کے پاس ایک چیز ہے۔ اور وہ خدا کی دی ہوئی قوتِ گویائی ہے، اپنی گویائی کو استعمال کیجئے ۔ اس بے کچھ سے آپ اپنے لیے سب کچھ پا سکتے ہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1989 All issues