آئیں گے غسال کا بل سے کفن جاپان سے
الرسالہ، فروری ۱۹۸۹، صفحہ ۳۹
کے جھرمٹ میں نظر آتا ہے“۔ فطرت کی دنیا کتنی حسین ہے! ”اس کو دیکھ کر میں نے سوچا “ مگر ان انسانی دنیا ئیں نہیں“ اس کی وجہ یہ ہے کہ فطرت“ پابند“ ہے اور اس کے مقابلہ میں انسان“ آزاد ہے“۔ خدا کی دنیا میں اس کی مخلوقات کا حسن یہ ہے کہ وہ نظام خداوندی کی پابند بن کر رہے۔ فطرت اس کی مکمل پابندی کرتی ہے اس لئے وہ حسین ہے ، انسان اس کی پابندی نہیں کرتا اس لئے وہ حسین نہیں۔
خدا نے چاہا کہ انسان کی صورت میں ایک ایسی مخلوق پیدا کرے جو آزاد ہوتے ہوئے بطور خود اپنے آپ کو نظام خداوندی کا پابند بنالے۔ وہ آزادانہ پابندی والے حسن کا نمونہ پیش کرے مگر انسان، کچھ مستثنیات کو چھوڑ کر، اس خدائی منصوبے میں اپنے آپ کو شامل کرنے کے لیے تیار نہ ہوا۔ آزادی کے باوجود پابندی کا نمونہ نہ اس نے پیش نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں درخت حسین ہے ، مگر انسان حسین نہیں۔ ایک مفکر کے الفاظ میں : اس دنیا میں ہر چیز حسین ہے ، مگر یہاں کی صرف ایک چیز حسین نہیں ، اور وہ انسان ہے۔ ۲۱ اکتوبر کو جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز یہاں کی مسجد ” جامع وزیر محمد اکبر خاں میں پڑھی۔ یہ مسجد یہاں کی سب سے خوبصورت مسجد بتائی جاتی ہے۔ خطبہ سے پہلے امام صاحب نے فارسی زبان میں ایک تقریر کی۔ انھوں نے اس آیت سے آغاز کیا : کنتم خیرا مة اخرجت للناس (شما امت بہتر است)، انھوں نے کہا کہ امروز حقِّیت اسلام به دنیا واضح است آج اسلام کی حقانیت دنیا پر واضح ہے، مگر ہم خود اسلام کے لئے نہیں اٹھتے۔ انھوں نے روتے ہوئے کہا کہ آج افغان عورتیں بیوہ ہو رہی ہیں۔ بچے یتیم ہو رہے ہیں ۔ گھر اجڑ رہے ہیں۔ کاروبار برباد ہو گئے۔ حالانکہ اسلام دین ترحم است۔ آخر میں انھوں نے رقت آمیز انداز میں یہ دعا کی :
خدایا اسلام را اتفاق نصیب کن، خدایا اسلام را برادری نصیب کن۔
مسجد میں ایک بات مجھے بہت پسند آئی کہ تمام لوگ صفوں میں مل کر بیٹھے۔ جب جماعت کھڑی ہوئی تو تمام صفیں بیک وقت کھڑی ہو گئیں۔ وہ صورت پیدا نہیں ہوئی جو دہلی میں نظر آتی ہے کہ جماعت کھڑی ہوتے ہی آگے آئیے آگے آئیے ، کی صدائیں بلند ہونے لگتی ہیں۔ جو بعض اوقات قرأت شروع ہونے تک جاری رہتی ہے۔ میرے اپنے تجربہ میں دہلی کا مسلمان سب سے زیادہ غیر منظم ہے۔ حتی کہ مسجد کی ہفتہ وار نماز میں بھی ایک ہی بے نظمی سالہا سال سے جاری ہے ، اس میں کوئی کمی یا اصلاح نظر نہیں آتی۔ نماز سے فراغت کے بعد مسجد سے نکلے تو فقیروں کی جماعت دروازہ پر کھڑی ہوئی تھی۔ ان میں بڑی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1989 All issues