Al-Risala · March 1990 · page 15

اسلام کا طریقہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۰، صفحہ ۱۵

اسلام کا طریقہ

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے ۔ یہاں ہر آدمی کو اپنے قول و عمل کی آزادی ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں ایک اور دوسرے کے درمیان مقابلہ اور ٹکراؤ پیش آتا ہے جو بعض اوقات عداوت تک پہوچ جاتا ہے (البقرہ ۳۶) ایسی حالت میں کرنے کا کام کیا ہے ۔ ۱۔ اس سلسلہ میں پہلا حفاظتی انتظام وہ ہے جو خود خالق نے پیشگی طور پر کر رکھا ہے ۔ اس نے ایسے داخلی اسباب پیدا کر دیے ہیں کہ لوگوں کی عداوتی نفسیات عام حالت میں سوئی ہوئی رہتی ہے ۔ انسان کی بہترین عقل مندی یہ ہے کہ وہ سوئے ہوئے کو سویا ہوا رہنے دے ۔ یہی وہ بات ہے جو حدیث میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ فتنہ سویا ہوا ہے ، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہے جو اس کو جگائے (ان الفتنة نائمة لعن الله من ايقظها)

۲۔ تاہم احتیاط کے باوجود اگر فتنہ جاگ اٹھے تو اس وقت اس کو دوبارہ ختم کرنے کی اولین کارگر تدبیر یہ ہے کہ آدمی جوابی اشتعال میں مبتلا نہ ہو۔ وہ اس کے معاملہ میں خاموشی اور اعراض کا طریقہ اختیار کرلے ۔ اکثر حالات میں صرف خاموشی اور اعراض اس کو ختم کرنے کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت عمر فاروق کی یہ نصیحت نہایت بامعنی ہے کہ باطل کو ہلاک کر اس کے بارہ میں چپ رہ کرو ( امیتوا الباطل بالصمت عنه)

۳۔ اگر بالفرض جاگی ہوئی عداوت صرف خاموشی اور اعراض سے ختم نہ ہو تو اس کے بعد دوسری موثر تدبیر قرآن میں یہ بتائی گئی کہ برائی کے جواب میں بھلائی کا انداز اختیار کیا جائے ۔ اخلاق کی اس قسم میں تسخیر کی طاقت ہے ، وہ دشمن کو بھی دوست بنا دیتا ہے (حم السجدہ ۳۴) ۴۔ بعض استثنائی واقعات میں ایسا ہو سکتا ہے کہ یہ فطری تدبیر بھی کارگر ثابت نہ ہو۔ اس وقت مظاہرہ طاقت کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے ۔ طاقت کا استعمال اب بھی نہ کیا جائے ۔ صرف یہ کیا جائے کہ طاقت کے مظاہرہ سے فریق ثانی کو اتنا مرعوب کیا جائے کہ وہ مخالفانہ اقدام سے رک جائے (الانفال ۶۰) ۵۔ اگر سنجیدہ کوشش کے باوجود یہ تمام تدبیریں ناکام ہو جائیں اور فریق ثانی سے مقابلہ بالکل ناگریز ہو جائے تو اس وقت اپنے دفاع میں حسب استطاعت مقابلہ کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1990 All issues

Printed page