ایک کتاب
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۰، صفحہ ۲۸
ایک گر وہ پیدا ہوا جس نے دوسری قوموں کے اثر سے "وجد" کا نظریہ نکالا ۔ ایسے لوگوں کی ایک مجلس کا فوٹو لے لیا گیا (۴۱۱) ، اور دکھایا گیا کہ اسلام کے مطابق جب خدائی راگ چھیڑا جاتا ہے تو لوگوں کو وجد آ جاتا ہے اور وہ کھڑے ہو کر ناچنے لگتے ہیں۔
اسی طرح مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ بعض معاملات میں قرآن کے بیانات متضاد (contradictory) ہیں۔ مثال کے طور پر کبھی قرآن کہتا ہے کہ انسان کو عمل کی آزادی حاصل ہے، اور کبھی قرآن ہی یہ زور دیتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ انسان کے تمام معاملات پر خدا کا مکمل کنٹرول قائم ہے (۷۰) ۔ قرآن کی بابت مقالہ نگار نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے کسی ما قبل انسانی ماخذ کا ثبوت نہیں ملتا ملتا(۴۰۲) ، حتی کہ قرآن کی زبان بھی محمد کی اپنی روز مرہ کی زبان سے مختلف ہے (۳۹۸) پھر بھی معروف رواج کے مطابق انھیں تلاش ہے کہ سابق مذہبی کتابوں میں اس کا کوئی ماخذ مل جائے ۔ وغیرہ یہ باتیں بلاشبہ ہمارے لئے تکلیف دہ ہیں۔ مگر اس قسم کی جو کتابیں چھپ رہی ہیں، ان کا توڑ یہ نہیں ہے کہ ان کے خلاف ایک جلی کٹی تنقید لکھ کر چھاپ دی جائے یا ناشر اور مصنف کے نام احتجاجی تار روانہ کر دئے جائیں۔ اس قسم کی کوشش خدمت اسلام کا جھوٹا کریڈٹ لینے کے ہم معنی ہے۔ ان کا حاصل اس کے سوا کچھ نہیں کہ کچھ خبریں اخبار میں چھپ جائیں اور وہ بھی دینی نقصان میں مالی نقصان کے اضافہ کی قیمت پر۔
کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ان کتابوں کا علمی بدل فراہم کیا جائے ، ہمارے درمیان اعلیٰ سطح پر ایسے ادارے قائم ہوں جو خود علوم کونئے ڈھنگ پر مرتب کر ڈالیں۔ موجودہ قسم کی اشتہاری کتابوں کے بجائے وہ علمی طرز کی کتابیں تیار کریں۔ اسلام کی قلمی خدمت کے کام کو مناظرہ بازی یا دوسرے لفظوں میں " مذہب کے پروپیگنڈہ لٹریچر" کی سطح سے اٹھا کر تدوین علوم کی سطح پر پہنچا دیں۔ وہ انسانی ذہن کو تحقیق و تصنیف کے اس مقام پر پہنچ کر خطاب کریں جہاں سے دوسرے لوگ اس کو خطاب کر رہے ہیں۔ دوسری کوئی بھی صورت اس فتنہ کے مقابلہ کی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1990 All issues