Al-Risala · March 1990 · page 33

تو شاید وہ اتنی مؤثر نہ ہوتی" صفحہ ۳۳

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۰، صفحہ ۳۳

دردمندانہ لہجہ میں کہا کہ بس یہ فرق ہے کہ پہلے ملک میں ہندو مسلم جھگڑے ہوا کرتے تھے، اب ہمارے یہاں شیعہ سنی جھگڑے ہوتے ہیں۔

”زیارت“ سے لوٹنے والے یہ تمام لوگ شیعہ تھے۔ ان میں زیادہ تر عورتیں تھیں۔ میں نے محمد عباس کاظمی صاحب سے پوچھا کہ اس سفر میں کِس کتنا خرچ آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ فی کس ۱۶ ہزار روپیہ۔ ۱۸۰ آدمی ہمارے جہاز میں دمشق سے سوار ہوئے۔ مگر اس سے زیادہ تعداد ابھی دمشق اور بغداد میں موجود تھی۔ یہ لوگ جہاز کے اندر بار بار نعرہ لگا رہے تھے ـــــ نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت، نعرہ حیدری۔ نعرہ دینے والا پہلے دونوں الفاظ نسبتاً دھیمے بولتا تھا۔ مگر جب وہ ”نعرہ حیدری“ بولتا تو اس کی آواز غیرمعمولی طور پر تیز ہو جاتی۔

جہاز کے اندر پی آئی اے کی فلائٹ میگزین ”مسافر“ ستمبر۔ اکتوبر ۱۹۸۹ مطالعہ کے لئے موجود تھی ۔ اس کے انگریزی حصہ میں پی آئی اے کے بارہ میں ایک مضمون تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ پی آئی اے ۱۹۵۴ میں قائم ہوئی ۔ اس دوران اس نے کیا ترقی کی اور آئندہ اس کے کیا منصوبے ہیں، اس ذیل میں یہ فقرہ درج تھا کہ جمہوریت کے احیاء کی وجہ سے ملک مسکراہٹوں سے بھرا ہوا ہے اور پی آئی اے بھی ترقیاتی پرواز کے لئے اپنے بازو پھیلارہی ہے:

Since the revival of democracy, the country is full of smiles, and PIA too is flexing its wings (p. 29). دوسری طرف جہاز کے اندر اردو اخبارات تھے۔ ان میں اپوزیشن لیڈروں کے بیانات ملک کے بارہ میں اس سے مختلف کہانی سنا رہے تھے ـــــ موجودہ دنیا میں کوئی زندگی کبھی آئیڈیل نہیں ہوتی۔ کوئی شخص زندگی کو مثبت رخ سے دیکھتا ہے تو اس کو زندگی امکانات سے بھری ہوئی نظر آتی ہے۔ دوسرا شخص اس کو منفی رخ سے دیکھتا ہے تو اس کو نظر آتا ہے کہ زندگی مصائب اور مشکلات کے سوا اور کچھ نہیں۔

۳۰ ستمبر ۱۹۸۹ کی صبح کو کراچی پہنچا۔ میں نے دہلی سے یہاں کا ویزا لے لیا تھا۔ چنانچہ کراچی میں ۱۲ گھنٹے قیام رہا۔ کراچی میں میرا قیام ”فضلی سنز لمیٹڈ“ کے یہاں تھا۔ وہ لوگ گلشن اقبال (123-D) میں رہتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1990 All issues

Printed page