Al-Risala · January 1990 · page 20

زمانہ کے خلاف

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۰، صفحہ ۲۰

زمانہ کے خلاف

ٹائمز آف انڈیا (۶ جولائی ۱۹۸۹) میں مسٹر من نندا کے قلم سے ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جو وزیر اعظم راجیو گاندھی کے صاحبزادے راہل گاندھی سے متعلق ہے ۔ راہل گاندھی نے نئی دہلی کے سینٹ اسٹیفن کالج میں ہسٹری (آنرز) کورس میں داخلہ لیا ہے ۔ وہ اس مضمون کے لیے منتخب کیے جانے والے ۷۲ طلبہ میں سے ایک ہیں۔ راہل کے کالج جانے کے وقت کا لج میں مسلسل پہرہ رہتا ہے ۔ وہ کمانڈوز (Black Cats) کے زبردست پہرہ کے اندر کالج جاتے ہیں اور واپس لوٹتے ہیں ۔

کالج کے ایک استاد ڈاکٹر ایس سی بھارگوا ( فزکس لیکچرر) کو "ایک طالب علم "کا ٹیلیفون ملا کہ وہ ان سے کچھ مشورہ کرنا چاہتا ہے ۔ انھوں نے اپنے مکان پر ملاقات کے لیے بلایا ۔ ڈاکٹر بھارگوا جب وقت پر گھر پہنچے تو وہاں سیکورٹی کے لوگوں نے ان کے مکان کو گھیر رکھا تھا ۔ ان کو مکان کے اندر داخل ہونے سے روک دیا گیا ۔ انھیں صرف اس وقت داخلہ کی اجازت ملی جب کہ انھوں نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ وہی ڈاکٹر بھارگوا ہیں جن سے ملنے کے لیے مذکورہ طالب علم یہاں آیا ہوا ہے ۔

یہ وی وی آئی پی طالب علم وزیر اعظم راجیو گاندھی کا بیٹا راہل گاندھی تھا ۔ رپورٹ میں بتایا ہے کہ راہل نے ڈاکٹر بھارگوا سے یہ مشورہ چاہا تھا کہ وہ اقتصادیات کا مضمون لے یا تاریخ کا مضمون ڈاکٹر بھارگوا نے اس کو بتایا کہ طالب علم کے نمبر کو دیکھتے ہوئے اقتصادیات کے کورس میں اس کا داخلہ مشکل ہوگا، اس لیے اسکو اقتصادیات کے بجائے تاریخ کا مضمون لینا چاہیے : Rahul, who sought Dr. Bhargava's advice on whether he should take up economics or history, was told by the lecturer that considering his percentage, admission to the economics course may be difficult and he should instead opt for history (p. 5). جہاں تعلیمی مقابلہ کا یہ حال ہو کہ وزیر اعظم کے بیٹے کو بھی میرٹ کی بنیاد پر داخلہ ملے وہاں رعایتی داخلہ کا مطالبہ کرنا عجیب بھی ہے اور نا قابل حصول بھی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1990 All issues

Printed page