Al-Risala · June 1990 · page 2

الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۲

الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۲

ایک واقعہ

۶ ستمبر ۱۹۸۹ کو میں انبیٹھہ (سہارن پور) میں تھا ۔ وہاں ایک واقعہ معلوم ہوا جس میں بہت بڑا سبق ہے ۔ اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے ۔

ڈاکٹر شاہد صاحب (پیدائش ۱۹۵۱) نے بستی کے باہر ۱۹۸۵ میں ایک زمین خریدی۔ اس کا رقبہ تقریباً پانچ ایکڑ ہے ۔ انھوں نے زمین حاصل کرنے کے بعد اس کے چاروں طرف مینڈ بنائی۔ اس زمین سے متصل یہاں کا مرگھٹ ہے ۔ مینڈ بنانے کے بعد کچھ ہندوؤں نے اعتراض کیا کہ آپ نے مینڈ غلط بنائی ۔ اس میں مرگھٹ کی زمین کا ایک حصہ شامل ہو گیا ہے ۔ یہ اعتراض کرنے والے وہ افراد تھے جو مقامی طور پر متعصب اور فرقہ پرست کی حیثیت سے مشہور ہیں۔

ڈاکٹرشاہدصاحب نے کہا کہ آپ لوگ پیمائش کرالیں اور جتنی زمین پیمائش میں نکلے ، اس کا دگنا لے کر مرگھٹ میں شامل کر لیجئے ۔ یہ کام آپ مجھ سے پوچھے بغیر خود سے کر لیں ۔ مجھے کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ اگست ۱۹۸۷ کا واقعہ ہے ۔ ڈاکٹر شاہد صابری راستہ سے گزر رہے تھے کہ انھوں نے دیکھا کہ بہت سے ہندو آگے کی طرف جا رہے ہیں ۔ ملاقات کے بعد انھوں نے بتایا کہ آج ہم آپ کی زمین کو ناپنے جا رہے ہیں ۔ ڈاکٹر شاہد صابری نے کہا کہ آپ لوگ ضرور جائیں اور ناپنے کے بعد مرگھٹ کی جو زمین ہماری طرف نکلے اس کو بلا بحث اس میں شامل کر لیں ۔ ان لوگوں نے کہا کہ آپ بھی چلیے تاکہ آپ کے سامنے پیمائش کی جاسکے ۔

ڈاکٹر شاہد صابری بھی کچھ دیر بعد اپنی زمین پر پہو نچ گئے ۔ انھوں نے کوئی مداخلت نہیں کی۔ بلکہ ہندو صاحبان کو آزادانہ طور پر ناپنے کا موقع دیا۔ انھوں نے بار بار ناپنا ۔ یہاں تک کہ معلوم ہوا کہ ان کا شبہ غلط تھا ۔ ڈاکٹر شاہد صابری نے مینڈ بالکل صحیح بنائی ہے ، بلکہ ایک طرف خود اپنی کچھ زمین مرگھٹ کی طرف چھوڑ دی ہے۔

اس واقعہ کا اتنا اثر ہوا کہ اس کے بعد مقامی ہندوؤں نے ڈاکٹر شاہد صابری سے کہا کہ آپ انبیٹھہ کی چیئرمین کے لیے کھڑے ہو جائیں ۔ یہاں کے ہندو اور مسلمان دونوں آپ کا ساتھ دیں گے اور آپ بلا مقابلہ کامیاب ہو جائیں گے ۔ مگر ڈاکٹر صابری نے شکریہ کے ساتھ انکار کر دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues

Printed page