Al-Risala · January 1990 · page 25

عبرت ناک حادثہ

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۰، صفحہ ۲۵

(Notice to airmen) اس شیٹ میں درج تھا کہ احمد آباد ائیرپورٹ کی رہنماء روشنیاں اور لینڈنگ کے مددگار آلات ناکارہ (Non-functional) حالت میں ہیں۔ مگر آخری لمحات میں پائلٹ اور کو پائلٹ کے درمیان گفتگ و کا جو ریکارڈ ”بلیک باکس“ کے ذریعہ ملا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پائلٹ نے مذکورہ معلوماتی شیٹ کو نہیں پڑھا۔ انہوں نے اس کو پڑھے بغیر ایک خانہ میں ڈال دیا اور اپنا سفر شروع کر دیا۔

وہ بے خبری کے ساتھ ہوائی جہاز کو اڑاتے ہوئے احمد آباد کے قریب پہنچے۔ پھر وہ اترتے ہوئے ایک ہزار فٹ کی بلندی تک آگئے۔ ان پر لازم تھا کہ وہ ان ضروری احتیاطوں کو ملحوظ رکھیں جو آلات کی مدد کے بغیر آنکھ سے دیکھ کر اترنے کی صورت میں اختیار کی جاتی ہیں۔ اس کے بجائے انھوں نے ائیرپورٹ کے آلات کی رہنمائی پر بھروسہ کیا جو اپنی ناقص کارکردگی کی وجہ سے انھیں غلط اطلاعات دے رہا تھا۔

جہاز جب ائیرپورٹ سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلہ پر تھا تو وہ اپنے صحیح راستہ سے ہٹ گیا۔ فضا میں کہر ہونے کی وجہ سے ائیرپورٹ بھی زیادہ صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جہاز رن وے پر اترنے کے بجائے باہر نا ہموار زمین پر اتر گیا۔ ایک سیکنڈ کے اندر جہاز کے اندر آگ لگ گئی۔ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ یہ واقعہ ۱۹ اکتوبر ۱۹۸۸ کو صبح ۷ بجے پیش آیا۔ ۱۳۸ مسافر ہلاک ہو گئے۔ صرف دو آدمی شدید زخمی حالت میں بچ سکے ۔ بالمقابل صفحہ پر اس کا نقشہ دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ایک دنیوی مثال ہے جس سے آخرت کے معاملہ کو سمجھا جا سکتا ہے۔ اس دنیا کا ہر آدمی گویا ایک مسافر ہے۔ ہر آدمی آخرت کی طرف سفر کر رہا ہے۔ مگر ہر سفر یکساں نہیں۔ ایک سفر وہ ہے جو خدا کے مقرر کیے ہوئے سیدھے راستہ پر جاری ہو۔ دوسرا سفر وہ ہے جس میں آدمی خود اپنی رائے کے تحت ٹیڑھے راستہ پر دوڑنے لگے۔

دونوں سفروں کا انجام یکساں نہیں ہو سکتا۔ جو لوگ سیدھے راستہ پر اپنا سفر طے کریں گے، وہ آخرت میں صحیح منزل پر اتریں گے۔ ان کے لیے وہاں امن اور راحت کی زندگی ہوگی۔ اس کے برعکس جو لوگ ٹیڑھے راستہ پر سفر کریں گے، ان کی سواری جب آخرت کے عالم میں پہنچے گی تو وہ بربادی کے مقام پر گر پڑے گی اور ٹوٹ پھوٹ کر تباہ ہو جائے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1990 All issues

Printed page