Al-Risala · June 1990 · page 16

مقام کیسے ملا

الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۱۶

اس میں سبق ہے مولانا اکرام الدین قاسمی (پیدائش ۱۹۳۸، ڈمراواں (ضلع بھاگل پور) کے رہنے والے ہیں۔ ۱۹۹۰ کی ملاقات میں انھوں نے اپنے کچھ واقعات بتائے جن میں بہت بڑا سبق ہے۔

۱۹۶۶ کا واقعہ ہے۔ مولانا اکرام الدین صاحب نے گنگا کو اسٹیمر سے پار کیا۔ وہ براری ریلوے اسٹیشن پر بھاگل پور جانے والی پسینجر ٹرین پر سوار ہو گئے۔ ٹرین میں بھیڑ تھی۔ ایک جگہ سیٹ پر ڈانڈہ کا ڈبہ رکھا ہوا تھا۔ وہ ڈبہ کو کھسکا کر وہاں بیٹھ گئے۔

تھوڑی دیر کے بعد ایک ہندو نوجوان آیا۔ یہ ڈبہ اسی کا تھا۔ وہ اس کو سیٹ پر رکھ کر باہر چلا گیا تھا۔ جب اس کو اندازہ ہوا کہ ڈبہ اپنی جگہ سے ہٹایا گیا ہے تو اس نے پوچھا کہ اس کو کس نے ہٹایا ہے۔ مولانا اکرام الدین صاحب نے کہا کہ میں نے ہٹایا ہے۔ یہ سنتے ہی وہ سخت غصہ ہو گیا۔ کیوں کہ اس کے عقیدہ کے مطابق ایک مسلمان نے اس کو چھو کر اس کو گندہ کر دیا تھا۔ اس نے کہا کہ اس ڈبہ میں گنگا جل تھا۔ اس کو لے کر میں دیو گھر جا رہا تھا۔ اس کو تم نے آپوتر کر دیا۔ اب وہ لے جانے کے قابل نہیں رہا۔ وہ غصہ میں آپے سے باہر تھا۔ اور نہایت گرم اور اشتعال انگیز لہجہ میں بار بار کہہ رہا تھا کہ تم نے میرے گنگا جل کو آپوتر کر دیا۔ مولانا اکرام الدین صاحب نے ان باتوں کا کوئی اثر نہیں لیا۔ وہ خاموشی سے اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور سیٹ نوجوان کے لئے خالی کر دی۔ انھوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا تھا کہ اس ڈبہ میں گنگا جل ہے۔ اور وہ میرے چھونے سے آپوتر ہو جائے گا۔ مجھ سے غلطی ہو گئی، مجھے معاف کر دو۔ ہندو نوجوان ان کے خلاف برستارہا اور وہ خاموشی سے کسی رد عمل کے بغیر اس کو سنتے رہے۔ یہ منظر دیکھ کر ڈبہ کے تمام ہندو اس نوجوان کے خلاف ہو گئے۔ اور مولانا اکرام الدین صاحب کی حمایت کرنے لگے۔ انھوں نے نوجوان سے کہا کہ مولانا جب چپ ہیں اور اپنی غلطی مان رہے ہیں تو تم کیوں ان کے خلاف اتنا زیادہ چیخ رہے ہو۔ انھوں نے مولانا اکرام الدین صاحب سے کہا کہ آپ بالکل مطمئن رہئے۔ یہ آپ کا کچھ نہیں کر سکتا۔ آخر کار ہندو نوجوان چپ ہو گیا۔ مولانا اکرام الدین صاحب اپنی جگہ برابر کھڑے رہے۔ کچھ دیر کے بعد نوجوان نے بے رخی کے ساتھ مولانا اکرام الدین صاحب سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آ رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues

Printed page