مقام کیسے ملا
الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۱۸
فوراً ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا ۔ اس نے کہا کہ ہم کو معاف کیجئے ۔ پیسہ کی ضرورت نہیں ۔ ہم کو بس آپ کی دعا چاہئے ۔
انسان کو غصہ نہ کیجئے ۔ اور اگر کسی وجہ سے وہ غصہ ہو جائے تو جوابی غصہ نہ کر کے اس کو ٹھنڈا کر دیجئے ۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ جس کو آپ اپنا دشمن سمجھ رہے تھے ۔ وہ آپ کے لئے ایسا ہو گیا جیسے کہ وہ آپ کا قریبی دوست ہو ۔
ہر آدمی خدا کا بنایا ہوا ہے ۔ اس دنیا میں کوئی آدمی نہیں جس کو خدا کے علاوہ کسی اور نے پیدا کیا ہو ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر وہی فطرت ہے جو کسی دوسرے کے اندر ہے۔ ہر آدمی کے اندر اچھے اور برے کی وہی تمیز موجود ہے جو کسی دوسرے کے اندر پائی جاتی ہے ۔ تاہم اسی کے ساتھ ہر آدمی کے اندر انا ( ایگو ) بھی موجود ہے ۔ یہی " انا " ساری خرابیاں پیدا کرتا ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے ہر آدمی کی انانیت کو اس کے سینہ کے اندر سلا رکھا ہے ۔ ہر آدمی کی انا ابتدائی طور پر حالت خواب میں ہے ۔ آپ کی عقل مندی یہ ہے کہ آدمی کی اس انا کو سویا رہنے دیں ، اس کو کبھی بیدار نہ کریں ۔
جب آدمی کی انا سو رہی ہو تو وہ اپنی حالت فطری پر ہوتا ہے ۔ اس وقت وہ وہی کرتا ہے جو سچی انانیت کا تقاضا ہے ۔ کوئی آدمی صرف اس وقت برا بنتا ہے جب کہ اس کی انسانیت کو جگا دیا جائے ۔ عقل مند آدمی کو چاہئے کہ وہ دوسروں کی انا کو جگانے سے آخری حد تک پر ہیز کرے ۔ اور بالفرض اگر کسی کی انا جاگ اٹھے تو پہلی فرصت میں اپنے حکیمانہ رویہ سے اس آگ کو بجھا دے ۔ جو لوگ عقل مندی کی اس روش کو اختیار کر لیں ، ان کو کبھی دوسروں کی طرف سے شکایت نہ ہوگی ، خواہ وہ ایک ملک میں رہتے ہوں یا کسی دوسرے ملک میں ۔
دین کامل از مولانا وحید الدین خاں صفحه ۳۶۷ ۲۵ روپیه
‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues