Al-Risala · June 1990 · page 20

نفرت، محبت

الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۲۰

نفرت، محبت

روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ کے اصحاب بھی وہاں موجود تھے۔ اتنے میں ایک اعرابی ( دیہاتی گنوار ) وہاں آیا۔ وہ مسجد کے اندر ایک جگہ کھڑا ہو کر پیشاب کرنے لگا۔ صحابہ اس کو پکڑنے اور مارنے کے لیے دوڑے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا کہ اسے چھوڑ دو۔ جب اعرابی پیشاب کر چکا تو آپ نے صحابہ سے کہا کہ ایک بالٹی پانی لو اور جہاں اس نے پیشاب کیا ہے وہاں پانی بہا کر اس کو صاف کر دو۔ اس کے بعد آپ نے اعرابی کو بلایا اور نرمی کے ساتھ اس سے کہا کہ دیکھو یہ مسجد ہے۔ یہاں خدا کا ذکر اور عبادت کی جاتی ہے۔ یہ بول و براز کرنے کی جگہ نہیں ۔

اعرابی پر اس واقعہ کا بہت اثر ہوا۔ ابتدا میں اگر اس کا گنوار پن جا گا ہوا تھا تو اب اس کا ضمیر جاگ اٹھا۔ وہ اسی حالت میں اپنے قبیلہ میں واپس گیا ۔ وہاں وہ دیوانہ وار لوگوں سے کہتا پھرتا تھا کہ دیکھو، میں مدینہ گیا ۔ وہاں میں نے یہ گندا کام کیا کہ محمد کی مسجد میں پیشاب کر دیا۔ مگر انھوں نے صرف یہ کیا کہ جہاں میں نے گندا کیا تھا اس کو پانی سے دھو دیا۔ خدا کی قسم محمد نے نہ مجھ کو جھڑ کا اور نہ وہ میرے اوپر غصہ ہوئے ( واللہ ما زجرنی، محمد. واللہ ما قهرنى محمد ) اعرابی کا یہ کہنا اس کے قبیلہ والوں کے لیے اسلام کی تبلیغ بن گیا ۔ چنانچہ پورا کا پورا قبیلہ اسلام کے دین میں داخل ہو گیا ۔ جس قبیلہ کے ایک آدمی نے مسجد میں آکر پیشاب کر دیا تھا، اسی قبیلہ کے تمام آدمی دوبارہ مسجد میں اس لیے آئے کہ مسجد کا احترام کریں اور اس میں ایک خدا کے آگے سجدہ کر کے اپنی اطاعت و فرمان برداری کا اظہار کریں ۔

یہ دور رسالت کا واقعہ ہے ۔ اب موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دیکھئے ۔ ۱۸۳۱ میں سید احمد شہید بریلوی کو زبانی طور پر یہ خبر ملی کہ پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ نے پنجاب کی کچھ مسجدوں کو اصطبل بنا دیا ہے ۔ وہاں اس کے گھوڑے بندھے ہوئے ہیں ۔ اس خبر کے بعد انھیں کسی مزید تحقیق کی ضرورت نہ تھی ۔ وہ بہت سے مسلمانوں کو لے کر پنجاب پہنچے اور رنجیت سنگھ کی فوجوں سے لڑ گئے۔ اس لڑائی میں ہزاروں مسلمان مارے گئے ۔ ایک تذکرہ نگار کے الفاظ میں، پنجاب کی زمین مسلمانوں کے

‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues

Printed page