احیا قلب ، احیا حکومت
الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۲۹
کیا جاتا ہے۔
جب یہ سب کام ہو جائے ، اس وقت زمین پیداوار کے لئے صالح ہو جاتی ہے ۔ اب کسان اس زمین میں بیج ڈالتا ہے ۔ جو کسان اس طرح زرعی عمل کرے ، وہی اپنی زمین سے عمدہ فصل حاصل کرتا ہے ۔ اس کے برعکس جو کسان زمین کی تیاری سے پہلے اس میں دانہ بکھیر دے ، وہ دانہ بکھیرنے کے باوجود اپنی زمین سے عمدہ فصل حاصل نہ کر سکے گا ۔ کیوں کہ عمدہ فصل ہمیشہ تیار کی ہوئی زمین سے اگتی ہے نہ کہ غیر تیار شدہ زمین سے ۔
قرآن کی یہ آیت اس بارہ میں قاطع حیثیت رکھتی ہے کہ کسی قوم پر جب تنزل کا دور آجائے تو اس کو دوبارہ اٹھانے کے لئے کیا کرنا چاہئے ۔ ایسی حالت میں وہی کرنا چاہئے جو مردہ (خراب) زمین پر کسان کرتا ہے ۔ یعنی فصل بونے سے پہلے زمین تیار کرنا ۔
اس قرآنی اصول کی روشنی میں موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے معاملہ کو سمجھیے ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان زوال کا شکار ہوئے۔ ان کی حکومتیں ختم ہوگئیں ۔ قوموں کے درمیان ان کی عظمت باقی نہیں رہی۔ ماضی کے غالب لوگ حال کے مغلوب لوگ بن گئے ۔
قرآن کے مذکورہ اصول کے مطابق ، اب مسلمانوں کو دوبارہ اٹھانے کا کام احیاء قلب سے شروع ہونا چاہئے تھا نہ کہ احیاء حکومت سے ۔ مگر موجودہ زمانہ میں جو مسلم رہنما اٹھے ، انھوں نے تقریباً بلا استثناء یہ کیا کہ احیاء حکومت کے نعرہ سے اپنے کام کا آغاز کر دیا۔ قلب کی سطح پر قوم کو زندہ کرنے کی کوشش انھوں نے نہیں کی ۔ ہر ایک نے یہ کیا کہ حکومت کی سطح پر کوشش کر کے قوم کی نشاۃ ثانیہ کا خواب دیکھنے لگا۔
خلافت تحریک، آزادی کی تحریک ، تقسیم ملک کی تحریک ، اس کی نمایاں مثالیں ہیں ۔ دوسری تحریکیں بھی کم وبیش اسی خانہ میں جاتی ہیں ۔ ان میں نام کے اعتبار سے یا الفاظ کے استعمال کے اعتبار سے بظاہر فرق نظر آتا ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ایک اور دوسرے کے درمیان کوئی بنیادی فرق نہیں ۔
اس غلطی کے نتیجہ میں مسلم رہنماؤں کا حال اس معمار کا ہو جو ٹوٹے کھمبوں اور بوسیدہ دیواروں کے اوپر چھت کھڑی کرنے کی کوشش کرے ۔ ایسی چھت کبھی قائم نہیں ہوسکتی اور نہ اب گھر
‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues