Al-Risala · June 1990 · page 31

احیا قلب ، احیا حکومت

الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۳۱

ایک سفر

ایک بین اقوامی اسلامی کانفرنس میں شرکت کے لئے مارچ ۱۹۹۰ میں ایک سفر ہوا۔ مہینہ کے آخر میں دوبارہ دہلی واپسی ہوئی۔

۲ مارچ کو فجر سے پہلے گھر سے ائیر پورٹ جانے کے لئے نکلا تو ایک حدیث یاد آگئی جس کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ جس آدمی کو اندیشہ ہوتا ہے وہ صبح سویرے سفر کے لئے نکلتا ہے۔ اور جو آدمی سویرے سفر کے لئے نکلتا ہے وہی اپنی منزل پر پہنچتا ہے (مشکاۃ المصابیح الجزء الثالث، صفحه ۱۶۹ ۱۴)

حدیث میں ادلاج کا لفظ ہے جس کے معنی رات کے آخری حصہ میں یا صبح کے اندھیرے میں سفر کے لئے نکلنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب آغازِ سفر میں جلد روانگی کا اہتمام کرنا ہے تاکہ سفر کامیابی کے ساتھ طے ہوسکے۔ ۔ یہی معاملہ آخرت کے سفر کا بھی ہے۔ آخرت کے سفر میں کامیابی کے ساتھ منزل پر پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے تقاضوں کو سمجھ کر اس کا پورا اہتمام کیا جائے۔ دہلی سے جہاز کی روانگی کا وقت صبح ساڑھے چھ بجے تھا۔ فجر سے پہلے گھر سے روانہ ہوا۔ راستہ میں لال بتی پر گاڑی رکی تو مجھے قرآن کی آیت وقفوهم انهم مسئولون (الصافات 24] یاد آگئی۔ آخرت میں وہی شخص پار ہوگا جس کو روکا نہ جائے۔ جس آدمی کو جانچ کے لئے روکا گیا وہ ہلاک ہوا۔

میرے بڑے بھائی عبد العزیز خاں صاحب مرحوم نے ایک بار ایک ٹرک خرید ا۔ جلد ہی بعد انھوں نے اس کو بیچ دیا۔ انھوں نے بتایا کہ ٹرک کے بارہ میں حکومت نے اتنے زیادہ قانون اور قاعدے بنا رکھے ہیں کہ اس کا پکڑ سے بچنا سخت مشکل ہے۔ پولیس والوں نے جس ٹرک کو جانچ کے لئے روکا اس کا چالان ہونا لازمی ہے۔ آخرت میں ٹکنکل قسم کے ضابطوں پر تو کسی کی پکڑ ہونے والی نہیں ہے۔ البتہ عمل کے خالص پن (purity) پر ضرور وہاں جانچ ہوگی۔ جس آدمی کا عمل خالص اللہ کے لئے ہووہ بچے گا اور جس آدمی کا عمل خالص اللہ کے لئے نہ ہو، اس کے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ ائیر پورٹ کے اندر امیگریشن پر بڑی لمبی لائن تھی۔ کھڑے کھڑے طبیعت گھبرا اٹھی۔ میں

‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues

Printed page