احیا قلب ، احیا حکومت
الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۴۳
والے پیغمبر کو اللہ تعالیٰ نے ابدی طور پر مقامِ تعریف (مقام محمود) پر کھڑا کر دیا ہے۔ اس کی حفاظت آپ کی کریں گے۔ اسلام اور پیغمبرِ اسلام آپ کے تحفظ سے مستغنی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ”تحفظِ نبوت کا نفرنس“ کرنا اتنا ہی بے معنی ہے جتنا ”تحفظِ آفتاب کانفرنس“ کرنا۔ پیغمبرِ اسلام کو اس کی ضرورت نہیں کہ مسلمان ان کا تحفظ کریں۔ پیغمبرِ اسلام کے امتی ہونے کی حیثیت سے مسلمانوں کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ آپ کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچائیں (بلّغوا عنی ولو آية)۔ آج مسلمانوں کی ذمہ داری اشاعتِ نبوت ہے نہ کہ تحفظِ نبوت۔ مگر موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ جو کرنا ہے اس کو کرتے نہیں، اور جو نہیں کرنا ہے اس کے لئے دوڑتے ہیں۔ اس سفر میں بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ایک عرب نوجوان نے ۱۸ مارچ کی ملاقات میں بڑی عجیب بات بتائی۔ انھوں نے راقم الحروف کی عربی کتابیں پڑھی ہیں اور الرسالہ مشن سے واقف ہیں۔ تاہم وہ میرے احوال اور میری مشکلات سے مکمل طور پر نا واقف تھے۔ انھیں کچھ بھی معلوم نہ تھا کہ میرے خلاف لوگوں نے مخالفت کا طوفان برپا کر رکھا ہے۔ حتیٰ کہ مجھے ”اہانت امت“ کی سزا دینے کا فتویٰ دیا جا رہا ہے۔
مذکورہ عرب نوجوان نے بتایا کہ فروری ۱۹۹۰ میں انھوں نے ایک خواب دیکھا۔ انھوں نے دیکھا کہ وہ میرے ساتھ ایک مکان میں ہیں۔ ہم لوگ سخت خطرے میں گھرے ہوئے ہیں اور بے حد پریشان ہیں۔ اس دور ان مذکورہ عرب نوجوان گھر سے باہر نکلے تاکہ حالات کا اندازہ کریں۔ اتنے میں انھوں نے دیکھا کہ سامنے کی سڑک سے حضرت عمر فاروق گزر رہے ہیں۔ وہ خاموشی سے چلتے ہوئے آگے نکل گئے۔ اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق وہاں سے گزرے۔ وہ وہاں ٹھہر گئے اور مذکورہ عرب نوجوان سے کہا : قل لوحید الدین وأصحابه، اخرجوا ولا تخافوا، انتم في حماية الله ایک اور عرب جنھوں نے اپنا نام العیساوی بتایا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے آپ کی اکثر عربی مطبوعات پڑھی ہیں۔ میں نے کہا کہ ہمارے مشن کا خلاصہ آپ نے کیا سمجھا ہے۔ انھوں نے کہا: هذه الرسالة تقدم الهدف الأساسي للإنسان ۔ نحن مخلوقون للآخرة ، والأمور الأخرى تخضع للأحوال والظروف ۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے خود اس سے کیا تاثر لیا۔ ان کا جواب یہ تھا : حولتنی من مسلم مادی الی مسلم صرف۔ یعنی اس نے مجھے مادی سوچ والے مسلمان سے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues