Al-Risala · July 1990 · page 9

دین میں تحریف

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۹

دین میں تحریف

قدیم زمانہ مائتھالوجی (mythology) کا زمانہ تھا۔ اس کے تحت مشرک قوموں میں تجسید یا تجسیم (incarnation) کا عقیدہ رائج ہوگیا۔ مثلاً رومی اور یونانی سورج کو دیوتا قرار دے کر اس کو پوجتے تھے اور اس کو خدا کا بیٹا کہتے تھے ۔

یہود و نصاریٰ نے بھی اپنے بگاڑ کے زمانہ میں اس عقیدہ کو اپنے مذہب میں داخل کر لیا۔ عزیر اور مسیح کو پیغمبر کہنا انھیں رومیوں اور یونانیوں کے خدائی باپ (divine fatherhood) کے نظریہ کے مقابلہ میں کمتر محسوس ہوا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے پیغمبروں کو خدا کا بیٹا بنا دیا۔ مشرک قوموں کی زبان کو اپنا کر وہ کہنے لگے کہ عزیر خدا کے بیٹے ہیں اور مسیح خدا کے بیٹے ہیں (التوبہ ۳۰) قرآن میں اس مذہبی تقلید کو مضاہاۃ کہا گیا ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ یہود و نصاری ان لوگوں کی بات نقل کر رہے ہیں جنھوں نے خدا کے ساتھ کفر کیا ہے ۔ اللہ انھیں غارت کرے، یہ لوگ اپنی گمراہی میں کدھر بہکے جارہے ہیں (التوبہ ۳۰)

مضاہاۃ کی یہ گمراہی موجودہ زمانہ میں ایک اور صورت میں مسلمانوں کے اندر داخل ہوگئی ہے۔ وہ ہے اسلام کو " نظام " کی اصطلاحوں میں بیان کرنا۔ مسلمانوں کے پڑھے لکھے طبقہ کے بہت سے لوگ نظامی طرزِ فکر سے متاثر ہیں۔ مگر یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہی گمراہی ہے جس میں پچھلی امتیں گمراہ قوموں کے زیر اثر مبتلا ہوئیں ۔

موجودہ زمانہ میں سوشلزم اور ڈیموکریسی جیسے سماجی اور سیاسی نظریات ظاہر ہوئے۔ ان کے اثر سے یہ ہوا کہ جدید انسان نظامی انداز میں سوچنے لگا۔ فرد کی نجات اُس کو اس میں نظر آنے لگی کہ اجتماعی ڈھانچہ میں انقلابی تبدیلیاں لائی جائیں ۔ دوبارہ ایسا ہوا کہ مسلمانوں کو اسلام کا روایتی تصور کم تر دکھائی دینے لگا۔ انھوں نے اپنے آپ کو وقت کے ہم سطح بنانے کے لیے یہ کہنا شروع کیا کہ اسلام ایک سیاسی نظام ہے ۔ وہ اجتماعی انقلاب کا علمبردار ہے ، وغیرہ ۔

وہ چیز جس کو موجودہ زمانہ میں انقلابی تفکیر کہا جاتا ہے ۔ وہ مبنی بر نظام (system-based)

‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues

Printed page