Its advent changed the course of human history.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۴۳
پڑھنے کے لئے دیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے بڑے حوصلہ افزا تجربات بتائے۔ مثلاً انھوں نے کہا کہ ان کی یونیورسٹی میں فزیالوجی کے ایک پر وفیسر ڈاکٹر ”بی آر“ ہیں۔ انھوں نے پر وفیسر موصوف کو کتابیں پڑھائیں۔ پڑھنے کے بعد ایک ملاقات میں انھوں نے عمر الہادی سے کہا کہ میرے بیٹے، یقین کرو، اگر تم نے اس حقیقت کو دنیا کے سامنے پہنچا دیا، تو تم دیکھو گے کہ دنیا کے ۹۰ فیصد لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے :
نائجیریا کے ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنا نام نمدی (Namdi) بتایا۔ ان کی تعلیم بیرونی ملکوں میں ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرا خاندان مسلمان ہے۔ مگر مجھے مسلمانوں کی اس بات سے سخت اختلاف ہے کہ وہ لڑائی (جہاد) کو بہت زیادہ گلوریفائی کرتے ہیں۔ میں کسی بھی قسم کی لڑائی کے سخت خلاف ہوں۔ اسلام اگر سچا مذہب ہو تو وہ لڑائی کا مذہب نہیں ہو سکتا۔ اس معاملہ میں اپنے خاندان سے میرا اتنا اختلاف ہوا کہ میں نے خاندان کو چھوڑ دیا۔ اسلام اگر یہی ہے تو میں اس کو نہیں مانتا۔
میں نے سوچا کہ انسان کی فطرت ایسا دین چاہتی ہے جس میں امن ہو۔ مگر موجودہ مسلمانوں کے ماحول میں اس کو ایسا اسلام نہیں ملتا۔ یہاں وہ دیکھتا ہے کہ اسلام جنگ کا مبلغ ہے۔ وہ اپنی فطرت کی آواز پر چلے تو اس کو اپنے مسلم خاندان کو چھوڑنا پڑتا ہے، وہ اگر خاندان پر چلے تو اپنی فطرت کو۔
عرب اخبارات میں آجکل روز انہ دعوتِ اسلام اور قبولِ اسلام کی خبریں ہوتی ہیں۔ مثلاً طرابلس کے اخبار الدعوة الإسلاميہ کے صرف ایک شمارہ (۲۱ مارچ ۱۹۹۰) میں اس قسم کی کئی خبریں موجود تھیں۔ ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ پچھلے سات سال میں ہانگ کانگ کے سات ہزار باشندوں نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا ہے ( 7 آلاف مواطن في هونج كونج يشهرون اسلامهم في سبعة اعوام )
‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues