زندگی بعد موت
الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۲
زندگی بعد موت
۲ اکتوبر ۱۹۶۸ کو مہاتما گاندھی کی پیدائش پر ایک سو سال پورے ہو گئے تھے۔ اس موقع پر گاندھی جنم شتابدی نہایت دھوم کے ساتھ منائی گئی۔ اس سلسلہ میں سرکاری اہتمام کے تحت مختلف پروگرام رکھے گئے، ان میں سے ایک وہ تھا جو ٹیلی فون کے محکمہ نے شروع کیا تھا ۔ اس کا نام تھا : ' ۲۷ا ڈائل کیجیے اور گاندھی جی کو سنیے' اس پروگرام کے تحت دہلی ٹیلی فون ڈیپارٹمنٹ نے ایک اسپیشل سروس جاری کی تھی۔ اس میں ٹیلی فون پر مہاتما گاندھی سے ربط قائم کرنا ممکن تھا۔ اگر آپ ٹیلی فون پر ۲۷ا ڈائل کریں تو دوسری طرف سے مہاتما گاندھی کی ریکارڈ کی ہوئی آواز آپ کو سنائی دینے لگے گی۔
آدمی ختم ہو جاتا ہے مگر اس کی آواز باقی رہتی ہے ۔ آدمی مر جاتا ہے مگر اس کی آواز زندہ رہتی ہے۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آدمی کی شخصیت ایک مسلسل ہستی ہے ۔ وہ موت وارد ہونے کے بعد بھی بدستور زندہ حالت میں موجود رہتی ہے ۔
شاید یہی مطلب ہے اس آیت کا جس میں قیامت اور بعث بعد الموت کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پس آسمان اور زمین کے رب کی قسم ، بے شک وہ حق ہے جیسا کہ تم بولتے ہو (الذاریات (۲۳) انسان کی آواز کی صورت میں انسان کی جزئی شخصیت بدستور باقی رہتی ہے۔ یہ واقعہ ہمارے براہ راست تجربہ میں آرہا ہے۔ پھر جب یہ معلوم ہو جائے کہ انسان کی شخصیت جزئی طور پر اپنا تسلسل باقی رکھتی ہے تو اس کے بعد یہ سمجھنا مشکل نہیں رہتا کہ انسان کی شخصیت مکمل طور پر بھی اپنا تسلسل باقی رکھے ہوئے ہے ۔ ایک کا علم دوسرے کے علم کو قابل قیاس بنا دیتا ہے ۔
جز کا وجود ثابت ہونے کے بعد کل کا وجود اپنے آپ ثابت ہو جاتا ہے ۔ انسانی آواز کی بعد از موت موجودگی اس عقیدہ کو قابل فہم بنا رہی ہے کہ انسان کی پوری شخصیت بعد از موت موجود ہے ۔
ایک آدمی جو ۱۹۴۸ میں مر چکا ، اس کی آواز آج سنائی دینا اس بات کا قرینہ ہے کہ وہ آدمی آج بھی زندہ موجود ہے ، اگر چہ وہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues