جنگ نہیں
الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۴
جنگ نہیں
ٹائمز آف انڈیا (۴ دسمبر ۱۹۸۹) میں ایک عالمی جائزہ شروع ہوا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آج دنیا کے سیاسی مدبرین کس انداز میں سوچتے ہے اس میں بالکل درست طور پر جدید ذہن کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عالمی طاقت یا سماجی تبدیلی کے لیے جنگ کے ہتھیار کا استعمال اب ایک ناممکن چیز بن چکا ہے : War as an instrument of world power or social موجودہ زمانہ میں مختلف ایسے اسباب پیش آئے ہیں جنھوں نے جنگ کے طریقہ کو ایک ناممکن طریقہ بنا دیا ہے۔ آج کوئی قوم جنگ کر کے وہ فائدہ حاصل نہیں کر سکتی جو قدیم زمانہ میں حکمراں طبقہ اس سے حاصل کیا کرتا تھا۔ جدید صورت حال نے تمام دنیا میں لوگوں کا ذہن بدل دیا ہے۔ تمام لوگ ٹکراؤ کے بجائے گفت وشنید کے طریقہ کی وکالت کرنے لگے ہیں۔ روس اور امریکہ جن کے پاس سب سے زیادہ جنگی طاقت ہے۔ وہ بھی آپس میں مفاہمت کی باتیں کر رہے ہیں تاکہ ان میں ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے۔
جدید دنیا میں اب صرف ایک قوم کا استثناء ہے جو آج بھی جنگ میں مشغول ہے۔ جس کے رہنما آج بھی جنگ اور تلوار کی اصطلاحوں میں بول رہے ہیں۔ یہ بدقسمتی سے مسلم قوم ہے۔ مسلمان آج بھی ہر جگہ بے فائدہ لڑائی لڑ رہے ہیں۔ مسلم رہنما آج بھی جنگی اصطلاحات میں پر شور تقریریں کرنے میں مشغول ہیں ۔ آج انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ مسلمانوں کے اندر بے معنی لڑائی کا مزاج ختم کیا جائے۔ ان کی ذہنی تربیت کے ذریعہ انھیں ایسا بنایا جائے کہ وہ جدید دنیا کو سمجھیں اور تلوار کے بجائے افکار و نظریات کی طاقت سے اپنی زندگی کی تعمیر کریں ۔
یہ صورت حال اللہ کی عظیم نعمت ہے جو عین مسلمانوں کے حق میں ہیں۔ اس طرح خدا تاریخ کو اس میدان مقابلہ میں لایا ہے جہاں اسلام واضح طور پر فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ مادی طاقت میں کوئی دوسرا اہل اسلام سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ مگر فکر و نظریہ کے معاملہ میں اسلام کو اجارہ داری کی حد تک ناقابل تسخیر قوت حاصل ہے۔ ہتھیار کے میدان میں فتح اور شکست دونوں کا امکان ہے۔ مگرفکری مقابلہ کے میدان میں اسلام کی فتح یقینی ہے۔ یہاں کوئی اس کے اوپر فتح پانے والا نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues