سفرنامہ ۔ قسط ۳
الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۴۰
میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا اصل معاملہ یہ ہے کہ وہ مسائل کے لئے لڑتے ہیں۔ حالانکہ ان کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ مسائل پر صبر کرکے دعوت اور اشاعت اسلام کا کام کریں۔ مسلمانوں نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی ، اس لئے خدا کا انعام بھی ان پر نازل نہ ہوسکا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا کیس ، ایک لفظ میں یہ ہے کہ جن باتوں پر انہیں صبر کرنا تھا ان باتوں پر وہ جہاد کر رہے ہیں۔ دنیا میں ہمیشہ مادی اور سیاسی اور سماجی مسائل رہتے ہیں۔ ان مسائل کو نظر انداز کرنا پڑتاہے۔ اگر آپ ان مسائل کو نظر انداز نہ کریں تو آپ اپنے اصل منصبی فرض کو انجام نہیں دے سکتے۔ مسائل کا حل اپنے فرض منصبی کو انجام دینے میں ہے نہ کہ خود مسائل سے لڑنے میں۔
مسلمانوں کو پہلا کام یہ کرنا ہے کہ وہ "مسائل" سے نظریں ہٹائیں اور اپنی ساری توجہ "فرض" کے اوپر لگا دیں۔ جب تک وہ ایسا نہیں کریں گے ، ان کے مسائل کبھی حل نہیں ہوسکتے۔ اور پاکستان اس کی زندہ مثال ہے۔ پاکستان کے تجربہ کے بعد بھی مسلمان اگر بدستور اپنے آپ کو مسائل میں الجھائے رہیں تو اس سے بڑی نادانی اور کوئی نہیں ہوگی۔
ایک صاحب نے سوال کیا کہ پاکستان میں اسلام کا نام جتنا زیادہ لیا جاتا ہے اتنا اور کہیں نہیں لیا جاتا۔ اسی کے ساتھ یہ بھی واقعہ ہے کہ پاکستان میں اسلام کی جتنی زیادہ خلاف ورزی کی جاتی ہے اتنی کہیں اور نہیں کی جاتی۔ اس عجیب ظاہر ہ کا سبب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا سب سے بڑا سبب وہ نام نہاد اسلام پسند ہیں جنھوں نے پچاس برس تک یہ نمونہ پیش کیا گویا اسلام کی خلاف ورزی کا دوسرا نام اسلام ہے۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں سید ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کے حامیوں کو لیجئے ۔ ان لوگوں نے پہلے کہا کہ اسلام کا نظام ایک درخت کی طرح فطری عمل کے تحت ظہور میں آتا ہے ، اس کے بعد مطالبات کے ذریعہ اسلام کوقائم کرنے کا نعرہ لگانے لگے۔ انھوں نے پہلے جلوس کے طریقہ کو غلط بتایا ، بعد کو خود غلاف کعبہ اور دوسرے ناموں پر جلوس کے ہنگامے برپا کرنے لگے۔ انھوں نے اسلام کو محمد نز م کہنے کی مخالفت کی۔ بعد کو خود نظام اسلام کو نظام مصطفی کہنا شروع کر دیا۔ انھوں نے صدارت کے عہدہ کے لئے مس فاطمہ جناح کو کھڑا کیا اور عورت کو صدر حکومت بنانے کے حق میں دلائل دئے ، اب بے نظیر
‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues