المطففین
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲۰
اور دانشوروں کی طرف سے لاکھوں کی تعداد میں رپورٹیں اور بیانات شائع کئے گئے ہیں۔ مگر ان رپورٹوں اور بیانات کا ایک فیصد فائدہ بھی ملت کو نہیں ملا، حتیٰ کہ اتنا فائدہ بھی نہیں جتنا ان کے چھاپنے اور تقسیم کرنے پر خرچ کیا جاتا رہا ہے۔ فسادات، اپنی کیفیت اور کمیت دونوں اعتبار سے برابر جاری ہیں بلکہ اور بڑھتے جارہے ہیں۔
مسلم رہنما اگر یہ کیا کرتے کہ وہ فرقہ وارانہ فساد کا نصف ثانی بتانے کے ساتھ، اس کا نصف اول بھی بتاتے تو انہیں اللہ کی مدد حاصل ہوتی اور یقینی طور پر اب تک اس قسم کے فساد کا خاتمہ ہو جاتا۔ موجودہ قسم کی رپورٹیں اور بیانات کو پڑھ کر ہر جگہ کے مسلمانوں میں صرف غصہ اور نفرت کے جذبات پیدا ہورہے ہیں۔ اور غصہ اور نفرت یقینی طور پر اصل مسئلہ کو مزید بڑھانے والا ہے، وہ ہرگز اس کو کم کرنے والا نہیں۔
اس کے برعکس اگر ہماری رپورٹوں اور بیانات میں واقعہ کا نصف اول بھی پوری طرح بیان کیا جاتا تو اس کے بعد مسلمانوں میں یہ احساس ابھرتا کہ اگر انھوں نے غلطی کی تو ہم نے بھی غلطی کی تھی۔ دونوں میں مقدار کا فرق تو ضرور ہے ، مگر دونوں میں نوعیت کا کوئی فرق نہیں۔ یہ معاملہ یک طرفہ معاملہ نہیں ہے ، بلکہ وہ دوطرفہ معاملہ ہے۔
اس احساس کا ایک تعمیری فائدہ یہ ہوتا کہ مسلمانوں میں خود احتسابی کا جذبہ ابھرتا۔ انھیں نظر آتا کہ فسادات کی شدت کے باوجود ، ان کا ایک آسان حل بھی یہاں موجود ہے۔ وہ یہ کہ ہم اپنے حصہ کی غلطی کو ختم کر دیں۔ اس طرح قانون قدرت کے تحت ، ہم یہ امید کر سکتے ہیں کہ ان شاء اللہ دوسرے کی غلطی کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔
اس طرح کے مواقع پر بہترین حل یہ ہے کہ جب بھی کسی مقام پر فرقہ وارانہ تناؤ پیدا ہو تو مسلمان مقامی ذمہ داروں اور پولیس کے اعلیٰ افسران سے ربط قائم کریں۔ وہ منصوبہ بند طور پر اس بات کی کوشش کریں کہ معاملہ پولیس اور جلوس کے درمیان رہے۔ مگر مسلمان اپنی بے صبری سے خود ہی اقدام کر بیٹھتے ہیں۔ اس طرح بے بنیاد طور پر مسلمانوں اور پولیس کا بن جاتا ہے۔ مسلمان اگر اس راز کو جان لیں تو اس کے بعد ۹۹ فیصد فسادات کا علاج اپنے آپ ہو جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues