انتقام نہیں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۳۳
انھوں نے بتایا کہ پر وفیسر کارل ٹرا ل کے الفاظ پر حاضرین میں سے کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ بلکہ اکثر سائنس داں اٹھ کر ان کے پاس آئے اور اظہار مسرت میں ان سے ہاتھ ملایا۔ یہ احساس ان تمام اہل علم کا ہے کہ جو نیچر کا مطالعہ کرتے ہیں۔ کوئی جرأت مند اس کا اعلان کر دیتا ہے۔ اور کچھ لوگ اس کو اپنے دل میں لئے ہوئے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔
لفتھانسا کی فلائٹ میگزین (Bordbuch) کے شمارہ مئی ۱۹۹۰ کے ایک مضمون میں بتایا گیا تھا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد ایسٹ جرمنی اور ویسٹ جرمنی میں ہوائی پرواز پر پابندیاں عائد ہوگئی تھیں۔ دونوں کے بیچ ایک درمیانی علاقہ قائم کر دیا گیا تھاجس کو مختصر طور پر اے ڈی آئی زڈ کہا جاتا تھا:
Air Defence Identification Zone (ADIZ)
مگر آج یہ حد بندی ٹوٹ گئی ہے۔ اب دونوں جرمن ریاستوں کے درمیان صرف لفتھانسا کی ہفتہ میں ۲۸ پروازیں قائم ہو چکی ہیں۔
آج کی دنیا میں لوگ جغرافی حدود کو توڑ رہے ہیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ اپنے تعلقات کو بڑھائیں مگر اسی دنیا میں مسلمان ہر جگہ اپنی جغرافی حد و دکو گھٹانا چاہتے ہیں تاکہ اپنے چھوٹے چھوٹے گھروندے بناسکیں۔
اس کو وہ بطور خود " اسلامستان" کہتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں اس ظاہر ہ کا ظہور دراصل احساس شکست کی علامت ہے۔ مسلمان بڑھتے ہوئے کمپٹیشن کی اس دنیا میں دوسروں سے مقابلہ کر کے ان کے درمیان زندہ رہنے کی طاقت اپنے اندر نہیں پاتے ۔ اس لئے وہ چاہتے کہ اپنی حدیں کھینچ کر اس کے اندر اپنے لئے زندہ رہنے کا موقع تلاش کریں۔ موجودہ زمانہ کی وہ تحریکیں جن کو مسلمان بطور خود آزادی کی تحریکیں کہتے ہیں، وہ صرف ان کی شکست خوردہ نفسیات کے مظاہر ہیں۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
موجودہ زمانہ میں ہوٹلوں اور بینکوں کی عالمی تنظیم نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ آدمی دنیا کے کسی بھی حصہ میں اپنے لئے ہر قسم کی آسودگی اور مواقع اطمینان بخش طور پر پاسکے۔ میگزین میں " ایکسپریس کارڈ" کا اشتہار ان لفظوں میں ایک پورے صفحہ پر چھپا ہوا تھا :
‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues