Do not walk outside this area.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۳۸
۴ مئی کی سہ پہر کو سوئس ایئر کی فلائٹ ۲۴۲ کے ذریعہ جینیوا اس کے کار کے لئے روانگی ہوئی۔ میری سیٹ کھڑکی سے ملی ہوئی تھی۔ باہر کی طرف دیکھا تو جہاز کا ” لمبا پھیلا ہوا تھا۔ پر کے اوپر انگریزی میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے کہ اس کے آگے نہ چلیں :
Do not walk outside this area.
ہوائی جہاز جب ایئر پورٹ پر کھڑا ہوتا ہے تو کارکن حضرات اس کو چیک کرتے ہیں۔ اس وقت کوئی شخص چلتا ہوا پر کے اوپر پہنچ سکتا ہے۔ اس لئے اس کو پر کے اوپر چلنے سے منع کر دیا گیا۔ کیونکہ ہوائی جہاز کا پر اس کا کمزور حصہ ہے۔ وہ انسانی بوجھ کا تحمل نہیں کر سکتا۔ پر کے اوپر مذکورہ الفاظ پڑھتے ہوئے مجھے وہ حدیث یاد آگئی جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی کچھ حدیں ہیں تم ان حدوں سے تجاوز نہ کرو۔ ” حد “ کا معاملہ دنیا اور آخرت دونوں قسم کے معاملات میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں عالموں میں وہی لوگ کامیاب رہیں گے جو حد کو جانیں۔ مثلا کسی سے آپ کو اختلاف ہو تو علمی تردید کی حد تک آپ جاسکتے ہیں۔ اس کے آگے الزام تراشی اور کردار کشی اور سب وشتم کے لئے زبان و قلم کو استعمال کرنے کی کسی کو اجازت نہیں۔ اسی طرح عمل کے معاملہ میں جائز حد و د میں سرگرم ہونے کی ہر ایک کو اجازت ہے۔ مگر جائز حدود کے باہر کسی کو اجازت نہیں۔
دکار ائیر پورٹ سے شہر جاتے ہوئے ہماری گاڑی جہاں کہیں لال بتی پر کھڑی ہوتی، فوراً ہی ” سیاہ فام “ چھوٹے اور بڑے افراد گاڑی کے گرد جمع ہوجاتے ۔ یہ عین وہی منظر ہے جو دہلی کی سڑکوں پر نظر آتا ہے۔ مگر دہلی میں جو لوگ اس طرح گاڑی کو گھیرتے ہیں وہ زیادہ تر بھیک مانگنے والے ہوتے ہیں۔ یہاں اس کے برعکس منظر تھا۔ یہ لوگ اپنے ہاتھوں میں مختلف قسم کے سامان لئے ہوئے ہوتے اور ان کو فروخت کرتے تھے۔ یورپ کے شہروں میں آپ جائیں تو وہاں آپ کو دونوں میں سے کوئی منظر بھی دکھائی نہیں دے گا۔
دکار میں میرا قیام ہوٹل نوو ٹل (Novotel) میں کمرہ نمبر ۲۳۸ میں تھا۔ پہلی نماز جو میں نے اس ہوٹل میں پڑھی وہ مغرب کی نماز تھی۔ کسی نئے مقام پر نماز پڑھنا ہمیشہ میرے لئے ایک عجیب تجربہ ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر اکثر یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ شاید میں پہلا شخص ہوں جو اس مقام
‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues