Al-Risala · September 1990 · page 40

Do not walk outside this area.

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۴۰

ہے۔ وہ ۱۹۶۰ میں آزاد ہوا۔ اس سے پہلے وہ فرانس کے قبضہ میں تھا۔ اس کے اثر سے اب بھی سینیگال کی سرکاری زبان فرانسیسی ہے۔

سینیگال دراصل یہاں کے سرحدی دریا کا نام ہے جو ۱۰۱۵ میل لمبا ہے۔ اہل یورپ تک اس کا تعارف سونے کا دریا (River of Gold) کی حیثیت سے پہنچا۔ ۱۶ ویں صدی سے لے کر ۲۰ ویں صدی تک یہی دریا فرانس کے نو آبادیاتی اثرات کو سینیگال تک پہنچانے کا ذریعہ بنا رہا۔ سینیگال مغربی افریقہ کا ساحلی ملک ہے۔ عربوں نے اس کو ابتدائی دور میں کامیابی کے ساتھ فتح کیا اور اس علاقہ کی تجارت پر قابض ہو گئے۔ ایک مورخ نے لکھا ہے کہ نویں صدی اور چودھویں صدی عیسوی کے درمیان عرب دنیا میں جغرافیہ دانی اور تاریخ دانی کو کافی فروغ ہوا۔ اس سے عربوں کو اس علاقہ کے بارہ میں مفصل معلومات حاصل ہوئیں جس کو وہ بلاد السودان کہتے تھے :

Islam when it is alive, does not merely preserve certain aspects of life, it also keeps all necessary aspects of humanity alive. (19/761) اسلام جب اپنی صحیح صورت میں زندہ ہوتا ہے تو وہ صرف معروف مذہبی پہلوؤں کو زندہ نہیں کرتا بلکہ اسی کے ساتھ وہ انسانیت کے تمام ضروری پہلوؤں کو بھی زندہ کر دیتا ہے۔ ویسٹ انڈیز اور امریکہ کی دریافت کے بعد وہاں زراعت کا کام بڑھا۔ وہاں زمینیں تھیں مگر انسان نہ تھے۔ اس لئے زرعی مزدور کے طور پر غلاموں کی تجارت میں زبردست اضافہ ہوا ۔ ۱۷۸۰ اور اس کے بعد کے سالوں میں تقریباً ....ے غلام ہر سال افریقہ سے لے جاکر ویسٹ انڈیز اور امریکہ کے ساحل پر اتارے جارہے تھے (19/768)

غلاموں کی اس تجارت کو جس چیز نے ختم کیا وہ مشین کی ایجاد ہے۔ بعد کو جب زرعی مشینیں تیار ہوگئیں تو انسانی مزدوروں کی ضرورت اپنے آپ ختم ہوگئی۔ بعض اوقات کسی برائی کو ختم کرنے کے لئے صرف اخلاقی تبلیغ کافی نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ ضرورت ہوتی ہے کہ مروجہ برائی کی اقتصادی یا سیاسی اہمیت کو ختم کر دیا جائے ۔ اس کے بعد وہ برائی اسی طرح ختم ہو جائے گی جس طرح کسی زندہ چیز سے

‹ Previous page Next page › Contents of September 1990 All issues

Printed page