کم پر راضی ہونا
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲
کم پر راضی ہونا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تھے۔ آپ نے خواب میں دیکھا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے ۔ آپ نے وہاں طواف اور سعی کیا۔ قربانی کی اور سرمنڈایا ۔ آپ نے یہ خواب اپنے اصحاب سے بیان کیا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ اللہ کی طرف سے عمرہ کی بشارت ہے۔ چنانچہ تقریباً پندرہ سو آدمی سفر کے لیے تیار ہو گئے۔ آپ ان کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے۔ آپ اور آپ کے اصحاب مکہ سے 9 میل کے فاصلہ پر حدیبیہ پہنچے تھے کہ قریش نے آگے بڑھ کر آپ کو روک دیا۔ اور کہا کہ ہم آپ لوگوں کو مکہ میں داخل ہونے نہیں دیں گے۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان بات چیت شروع ہوئی ۔ آخرکار یہ طے ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مع اصحاب مدینہ واپس چلے جائیں۔ البتہ اگلے سال وہ خاموشی کے ساتھ آ کر عمرہ کر تھے ہیں ۔
اس معاہدہ کے مطابق آپ نے فیصلہ فرمایا کہ عمرہ نہ کریں اور حدیبیہ سے واپس ہو کر مدینہ چلے جائیں تاہم قربانی کے جانور آپ کے ساتھ موجود سکتے ۔ آپ نے فرمایا کہ اگر چہ ہم طواف اور سعی نہیں کر سکے ۔ تاہم قربانی اور حلق ہم کر سکتے ہیں۔ اٹھو، اپنے جانوروں کو ذبح کرو اور سر کے بال منڈالو (قوموا فانحرواثم احلقوا) یہ گویا کم پر راضی ہونا تھا۔ اگر چہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کی بنا پر لوگوں کو پورا یقین ہوگیا تھا کہ وہ مکہ میں داخل ہوں گے۔ طواف اور سعی کریں گے ۔ اور پھر قربانی اور حلق کریں گے۔ مگر جب ایسے حالات سامنے آئے کہ طواف اور سعی بظاہر ناممکن ہو گیا ۔ اور صرف قربانی اور حلق ممکن رہ گیا۔ تو انھوں نے مکہ میں داخلہ اور طواف اور سعی کا ارادہ چھوڑ دیا اور قربانی اور حلق پر راضی ہوگئے۔ یہی زندگی کا راز ہے۔ اس دنیا میں آدمی کو کم پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ اس کے بعد وہ زیادہ کو پاتا ہے۔ جو شخص پہلے مرحلہ میں کم پر راضی نہ ہو وہ نہ کم کو پا تا اور نہ زیادہ کو ۔ اس کے حصہ میں جو چیز آتی ہے وہ صرف یہ کہ وہ نزاع چھیڑ کر غیر ضروری طور پر اپنے کو برباد کرتا رہے ۔ اور جب برباد ہو کر نزاع کے قابل نہ رہے تو یہ کہہ کر اپنے دل کو تسکین دینے کی کوشش کرے کہ میں تو کامیابی کے عین قریب پہنچ گیا تھا مگر دشمنوں کی سازش نے مجھ کو ناکام بنا دیا۔
کم پر راضی ہونا بھی رسول اللہ کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1990 All issues