Al-Risala · October 1990 · page 14

نفسیاتی کمزوری

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۰، صفحہ ۱۴

نفسیاتی کمزوری

پٹرونیس آربرٹر (Petronius Arbiter) رومی بادشاہ نیرو (Nero) کا ایک قریبی دوست تھا۔ اس کی غیر معمولی صلاحیت کی ب پر اس کو روم کا مجسٹریٹ مقرر کیا گیا ۔ اس نے ۶۶ء میں وفات پائی۔ اس کا ایک قول انگریزی میں اس طرح نقل کیا گیا ہے ـــــ انسانی دماغ ہمیشہ اس چیز کی تمنا میں رہتا ہے جس کو اس نے کھو دیا ہے :

The mind longs for what it has missed.

یہ بات حال کے لیے بھی اتنی ہی صحیح ہے جتنی وہ ماضی کے لیے صحیح تھی۔ نیز یہ کہ یہ نفسیاتی کمزوری اتنی عام ہے کہ افراد اور اقوام دونوں اس میں یکساں طور پر مبتلا رہتے ہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کھوئی ہوئی چیز اگر چہ ماضی میں لامعلوم تھی مگر حال میں وہ پوری طرح معلوم چیز بن چکی ہوتی ہے۔ ماضی میں وہ پوری طرح معلوم اور واضح نہ ہونے کی وجہ سے آدمی کی توجہ کا مرکز نہ بن سکی۔ مگر بعد کو وہ مکمل طور پر علم کے دائرہ میں آجاتی ہے۔ اس لیے انسان اس کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیتا ہے۔ مگر یہ نادانی کے سوا اور کچھ نہیں ۔

اسی انسانی کمزوری کی بنا پر قوموں کے اندر سطحی قیادتیں جنم لیتی ہیں۔ سطحی قیادت ہمیشہ معلوم محرومیوں" پر اکٹھی ہے۔ کیوں کہ معلوم محرومیوں پر قوموں کو ابھارنا بے حد آسان ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان میں اگر ایک لیڈر یہ نعرہ لگائے کہ "لینا ہے کشمیر" تو اس کو فوراً عوام کے درمیان مقبولیت حاصل ہو جائے گی ۔ کروڑوں روپیہ کا چندہ وہ نہایت آسانی کے ساتھ جمع کرلے گا۔ کیوں کہ کشمیر کا کھویا جانا پاکستانیوں کے لیے ایک معلوم واقعہ بن چکا ہے ۔ اس کے برعکس اگر پاکستان کا ایک مسلم رہنما کہے کہ ہم کو داعی گروہ کی حیثیت سے اٹھنا ہے تو ایسی پکار پر کبھی عوام کی بھیڑ جمع نہیں ہوگی۔ کیوں کہ داعیانہ حیثیت کا کھونا نا عوام کے لیے کوئی معلوم واقعہ نہیں۔ جھوٹی قیادت ہمیشہ معلوم محرومیوں کی بنیاد پر اکٹھی ہے اور سچی قیادت ہمیشہ نامعلوم محرومی کی بنیاد ر اور تنظیمی نظام از میان الحبا و دنیا و شهرا هم عن الآخرة هو عناد لدن

‹ Previous page Next page › Contents of October 1990 All issues

Printed page