تربیتی ضمیمہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲۸
میں ایک اسلامی مرکز عراق کے تعاون سے بنا ہے، اگرچہ ابھی وہ نا تمام ہے۔ شیخ عبد العزیز نے یہاں مجھے ایک مسجد دکھائی جو پہلے خستہ تھی، اب وہ شاندار طور پر بنی ہوئی کھڑی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس مسجد کی تعمیر نو کی ضرورت تھی۔ چنانچہ میں سعودی عرب گیا، وہاں مجھے کافی مدد ملی۔ اس سے میں نے یہ مسجد تعمیر کرائی۔ اسی طرح ایک اور اسلامی ادارہ ہے جو لیبیا کے تعاون سے بنایا گیا ہے۔ دینی حلقوں کے لئے یہی انداز زیادہ مناسب ہے۔
یہ ہوٹل دس منزلہ ہے۔ اس اعتبار سے اس کی لفٹ میں ایک سے لے کر دس تک نمبر لگے ہوئے ہیں۔ ہر آدمی اپنا مطلوبہ نمبر دبا کر اپنی مطلوبہ منزل پر پہنچ جاتا ہے۔
ایک روز لفٹ میں جاتے ہوئے مجھ پر ایک تجربہ گزرا۔ میں لفٹ کے اندر داخل ہوا تو میرے ساتھ تین آدمی اور بھی آگئے۔ کسی کو نویں منزل پر جانا تھا، کسی کو دسویں منزل پر۔ ان لوگوں نے سبقت کر کے اپنا اپنا نمبر دبا دیا۔ بورڈ پر نمبر ۱۹ اور نمبر ۱۰ کی گنتیاں روشن ہوگئیں۔ مجھے نمبر ۲ پر جانا تھا۔ میں نے بعد کو اپنا بٹن دبا دیا۔ بٹن دبانے کی ترتیب کے لحاظ سے بظاہر لفٹ کو پہلے نویں اور دسویں منزل پر جانا چاہئے تھا۔ مگر لفٹ نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے پہلے مجھ کو دوسری منزل پر اتا را۔ اس کے بعد وہ نویں اور دسویں منزل کے مسافروں کو اتارنے کے لئے اوپر گئی۔
اونچی بلڈنگوں کے لئے یہ روزمرہ کا عام واقعہ ہے۔ لوگ اس کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ اس پر غور کریں۔ مگر میرا ذہن فوراً اٹمک گیا۔ میں نے سوچنا شروع کیا کہ لفٹ نے ایسا کیوں کیا کہ اس نے بٹن دبانے کی بے ترتیبی کو بطور خود درست کیا اور صحیح ترتیب کے ساتھ مسافروں کو ان کی منزل پر پہنچا یا۔ میرے ذہن نے جواب دیا کہ اس کا سبب کمپیوٹر ہے۔ موجودہ زمانہ کی آٹومیٹک لفٹ کے ساتھ کمپیوٹر لگا ہوا ہوتا ہے۔ وہ اپنے "مشینی دماغ" کے ذریعہ بے ترتیبی کو ترتیب میں بدلتا ہے۔ وہ لفٹ کو "حکم" دیتا ہے کہ بے ترتیب طور پر بٹن دبائے جانے کے باوجود وہ اپنے مسافروں کو حقیقی ترتیب کے ساتھ ان کی منزل پر اتارے۔
اس دنیوی منظر کو دیکھ کر اچانک میرا ذہن آخرت کی طرف چلا گیا ۔ میں نے کہا کہ یہی واقعہ جو مخلوق کی سطح پر ابتدائی درجہ میں پیش آرہا ہے، یہی آئندہ خالق کی سطح پر کامل درجہ میں پیش آئے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1990 All issues