Al-Risala · November 1990 · page 12

قابل عمل، ناقابل عمل

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۱۲

قابل عمل، ناقابل عمل

ایک دھوبی ایک روز اپنے گدھوں کو لے کر گھر سے گھاٹ کی طرف روانہ ہوا۔ راستہ میں ایک محلہ تھا۔ محلہ والوں نے کہا کہ تمہارے گدھوں کو ہم اس شرط پر اپنے محلہ سے گزرنے دیں گے کہ وہ آواز نہ نکالیں، کیوں کہ گدھے کی آواز ہم کو پسند نہیں۔ دھوبی نے جواب دیا: آپ لوگوں کی یہ شرط تو میں مان سکتا ہوں کہ میرے گدھے کسی کو لات نہ ماریں، مگر یہ شرط میرے بس سے باہر ہے کہ میرے گدھے کوئی آواز نہ نکالیں ۔ یہ واقعہ فرقہ وارانہ فساد کے معاملہ کو بہت خوبی کے ساتھ بتا رہا ہے ۔ ہندوستان کے بیشتر فسادات کی بنیاد یہ ہے کہ ایک فرقہ اپنا جلوس نکالتا ہے۔ وہ چلتے ہوئے شہر کی ایسی سڑک سے گزرتا ہے جس کے کنارے دوسرے فرقہ کے مکانات ہیں ۔ اس فرقہ کے لوگ مانگ کرتے ہیں کہ جلوس والے جلوس تو نکالیں مگر وہ اشتعال انگیز نعرہ نہ لگائیں۔ جلوس اس شرط کو پورا نہیں کر پاتا۔ جلوس کے کچھ افراد اشتعال انگیز نعرے لگا دیتے ہیں ۔ اس پر دوسرا فرقہ پتھر تک کر پتھر مارتا ہے۔ اس کے جواب میں فریق ثانی مزید مشتعل ہو کر گولیاں چلاتا ہے، اور پھر وہ فساد برپا ہوتا ہے جس میں ساری آبادی تہس نہس ہو کر رہ جاتی ہے۔ جلوس نکالنا بلاشبہ ایک سطحی کام ہے ۔ اس میں سطحی قسم کے لوگ ہی حصہ لیتے ہیں ۔ سنجیدہ اور پڑھے لکھے لوگ کبھی جلوس وغیرہ میں شریک نہیں ہوتے۔ دوسرے لفظوں میں جلوس، انسانی گدھوں کی بھیڑ کا نام ہے۔ ایسے لوگوں سے یہ مانگ کرنا کہ وہ نعرہ نہ لگائیں، سراسر ناقابل عمل ہے۔ وہ لازمی طور پرنعرہ لگائیں گے، حتی کہ دل آزار نعرے بھی۔

ہم کو چاہیے کہ ہم قابل عمل اور ناقابل عمل کے فرق کو سمجھیں ۔ ہم قابل عمل کی مانگ کریں اور جو ناقابل عمل ہے اس کو نظر انداز کر دیں ۔ ہم قول پر صبر کریں (المزمل ۱۰) اور عمل پر پابندی لگانے کی کوشش کریں۔ ایسے مواقع پر ہم کو نعرہ کی بات سے اعراض کرنا چاہیے ۔ ہم کو ایڈمنسٹریشن سے صرف یہ مانگ کرنا چاہیے کہ وہ جلوس کو تشدد کی کارروائی کرنے سے رو کے ۔ ہم اگر اس حکمت کو اختیار کر لیں تو ملک سے فرقہ وارانہ فسادات کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے۔

اس دنیا میں ممکن کی مانگ ہمیشہ کامیاب ہوتی ہے ، اور ناممکن کی مانگ ہمیشہ ناکامیا ب ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues

Printed page