Al-Risala · February 1990 · page 2

مثبت اثر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۲

مثبت اثر

مشہور نحوی سیبویہ (م ، ۱۷۷ھ) ایران میں پیدا ہوا اور بصرہ میں پرورش پائی۔ اس کی نوجوانی کا واقعہ ہے جب کہ وہ حدیث و فقہ کا طالب علم تھا۔ ایک دن وہ حماد بن سلمہ کی مجلس میں تھا۔ انھوں نے ایک حدیث کا املا کراتے ہوئے کہا : ليس من اصحابی احد الا وشدت لا تخذت عليه، ليس ابا الدَّرْدَاء سیبویہ یہ سن کر بول اٹھا: ليس ابو الدرداء۔ اس پر حماد نے چلا کر کہا: سیبویہ تم غلطی پر ہو۔ یہ استثناء ہے (اس لیے ابو کے بجائے ابلا ہے)، سیبویہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے اپنے جی میں کہا کہ میری نحو کمزور ہے اور مجھے اس میں مہارت پیدا کرنی چاہیے۔ اب اس نے نحو سیکھنا شروع کر دیا۔

وہ بصرہ و کوفہ کے نحوی علماء ء خلیل، یونس اور عیسیٰ بن عمر کی مجلسوں میں جانے لگا۔ اس نے اس فن میں اتنی محنت کی کہ بالآخر وہ اس کا امام بن گیا۔ نحو و ادب کے شاذ مسائل میں اس کا کوئی ثانی نہ رہا۔ اس کے بعد اس نے نحو پر ایک ایسی کتاب لکھی جو اپنی اہمتیت اور بلندی کی وجہ سے " الکتاب " کے نام سے مشہور ہے۔ اس فن کے علما کا کہنا ہے کہ فن نحو پر اس کے برابر کی کوئی کتاب آج تک لکھی نہ جاسکی۔ جس شخص کی نحو کمزور تھی، وہ تاریخ کا سب سے بڑا نحوی بن گیا۔ ہر شخص کی زندگی میں ایسے واقعات آتے ہیں جب کہ اسے ٹھیس لگتی ہے۔ جب اس کو دوسروں کی طرف سے بے اعترافی کی ذلت اٹھانی پڑتی ہے۔ جب وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان بے جگہ ہو گیا ہے۔

ایسے مواقع پر اثر لینے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی ان تجربات کے بعد بے ہمی اور احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جائے۔ ایسے آدمی نے گویا اپنے آپ اپنے کو مار لیا۔ دوسرا شخص وہ ہے جس کے لیے ایسا تجربہ ایک مہمیز بن جائے۔ ایسے آدمی کے لیے اس کا تجربہ اس کی صلاحیتوں کو جگانے کا باعث بن جاتا ہے۔ وہ از سر نو محنت اور عمل کے رخ پر چل پڑتا ہے، یہاں تک کہ ماضی کا ناکام انسان مستقبل کا کامیاب انسان بن جاتا ہے۔ مثبت تاثر آدمی کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے اور منفی تاثر ناکامی اور بربادی کی طرف۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues

Printed page