Al-Risala · November 1990 · page 15

شهادت غیر حق

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۱۵

کے سامنے یہ گواہی دی کہ سیاسی محکومی سے نجات سب سے بڑا مسئلہ ہے ، حالاں کہ انہیں یہ گواہی دینا چاہئے تھا کہ جہنم کے عذاب سے نجات سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ انھوں نے انگریزوں کو بتایا کہ سب سے زیادہ اعلیٰ چیز سیاسی آزادی ہے۔ حالاں کہ انھیں چاہئے تھا کہ انگریزوں کو یہ بتائیں کہ سب سے زیادہ اعلیٰ چیز جنت ہے۔ اس لئے تم لوگ اپنے رب کی رحمت و مغفرت کے طالب بنو تاکہ تم موت کے بعد جنت میں داخل ہو :

وَسَارِعُوٓا۟ الى مغفرة من ربكم وجنة اور تم لوگ اپنے رب کی بخشش کی طرف دوڑو اور اس عرضها السماوات والارض اعدت جنت کی طرف جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر للمتقين (آل عمران ۱۳۳) ہے ۔ وہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ پیغمبروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان کے زمانہ میں بھی سیاسی محکومی کے مسائل تھے ۔ مگر وہ سیاسی محکومی سے نجات کا نعرہ لے کر نہیں اٹھے۔ بلکہ لوگوں کو توحید اور آخرت کی طرف پکارا۔ مثال کے طور پر حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں مصر میں ایک بیرونی خاندان ہکسوس (Hyksos Kings) کی حکومت تھی۔ مگر حضرت یوسف نے اس بیرونی حکمرانی کو اشو نہیں بنایا جیسا کہ آپ کے بعد مصر کے قوم پرستوں نے بنایا ۔ حتیٰ کہ آپ اسی بیرونی بادشاہ کے تخت "خزانہ ائن ارض " کے شعبہ کے نگر اں بن گئے ۔

حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں فلسطین میں رومیوں کی حکومت تھی جو باہر سے آکر فلسطین پر قابض ہو گئے تھے ۔ اس وقت فلسطین میں پیلاطس (Pontius Pilate) رومی گورنر کی حیثیت سے مقیم تھا۔ مگر حضرت مسیح نے اس معاملہ کو اپنی تحریک کا اشو نہیں بنایا۔ آپ نے اپنی ساری توجہ اس پر مرکوز کر دی کہ لوگوں کو جہنم سے ڈرائیں اور انھیں جنت کی بشارت دیں۔

مومن کا کام یہ ہے کہ وہ توحید اور آخرت کو اپنی دعوت کا عنوان بنائے اور دوسری تمام چیزوں کو فیصلے الہی کے خانہ میں ڈال دے۔ مومن کا کام حق کی گواہی دینا ہے۔ اہل ایمان اگر دوسری دوسری چیزوں کو تحریک کا عنوان بنا کر اس کے لئے دھوم مچائیں تو یہ غیر حق کی شہادت کے ہم معنی ہوگا۔ اور اہل ایمان کے لئے جس خدائی نصرت کا وعدہ کیا گیا ہے وہ شہادت حق کے کام پر ہے۔ شہادت غیر حق کے کام پر انھیں ہر گز نہ خدا کی نصرت ملنے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues

Printed page