دعوتی کوتاہی
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۱۹
دعوتی کوتاہی
چھٹی صدی عیسوی کے آخر میں جب اسلام کا ظہور ہوا، اس وقت دنیا کی سب سے بڑی سلطنت عیسائیوں کی سلطنت تھی۔ اس سلطنت کے دو بڑے حصے تھے۔ ایک مغربی حصہ اور دوسرا مشرقی حصہ، مغربی حصہ (یورپ) کو رومن ایمپائر کہا جاتا تھا اور اس کا پایہ تخت روم (اٹلی) تھا۔ مشرقی حصہ (ایشیا اور افریقہ) کو بازنطینی ایمپائر کہا جاتا تھا اور اس کا پایہ تخت قسطنطنیہ (ترکی) تھا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ میں شام کی سرحد پر رومیوں سے مسلمانوں کا فوجی ٹکراؤ شروع ہوا۔ اس ٹکراؤ میں مسلمان کامیاب رہے۔ ایک صدی کے اندر اندر انھوں نے مسیحی سلطنت کے مشرقی حصہ کو تقریباً پورا کا پورا فتح کر لیا جس میں ان کے مقدس مذہبی مقامات (شام اور فلسطین) بھی شامل تھے۔
اس کے بعد مسلمانوں نے ایک طرف سسلی اور اسپین کی جانب سے پیش قدمی شروع کی اور بڑھتے بڑھتے فرانس کے اندر داخل ہوگئے۔ دوسری طرف وہ ترکی کی جانب سے مشرقی یورپ میں داخل ہوئے۔ اور آگے بڑھتے ہوئے ویانا (آسٹریا) تک جاپہنچے ۔ اس طرح انھوں نے مسیحی (رومی) سلطنت کے مشرقی بازو پر تقریباً پورا کا پورا قبضہ کر لیا۔ اور اسی کے ساتھ اس کے مغربی بازو کے بھی ایک حصہ کو کاٹ لیا۔ مشہور صلیبی لڑائیاں مغربی عیسائیوں کی طرف سے ان کی اسی شکست کا رد عمل تھیں۔ عیسائی دنیا ایک نیز قوم کے ہاتھ سے اپنی اس ذلت اور شکست کو برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ چنانچہ یورپ کی مسیحی سلطنتوں نے متحد ہو کر مسلم دنیا پر حملہ کر دیا۔
صلیبی لڑائیاں (Crusades) وقفہ وقفہ سے تقریباً دو سو سال (۱۰۹۵ء تا ۱۲۹۱ء) تک جاری رہیں۔ اس درمیان میں عیسائیوں کو وقتی اور جزئی کامیابی حاصل ہوئی۔ مگر سلطان صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں بالآخر مسلمانوں نے فتح پائی۔ اور مسیحیوں کو ان کی سابقہ دنیا سے باہر نکال دیا گیا۔ پیریس سائیکلوپیڈیا (Pears Cyclopaedia) نے اس سلسلے میں بہت با معنی تبصرہ کیا ہے۔ اس کے الفاظ ہیں: Millions of lives and an enormous amount of treasure were sacrificed in these enterprises, and when all was done Jeruselem remained in the possession of the 'infidels'.
‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues