کامیابی کی شرط
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۲۱
کامیابی کی شرط
جاپان آج متفقہ طور پر اقتصادی سپر پاور (Economic superpower) کی حیثیت رکھتا ہے۔ روایتی طور پر فوجی طاقت کسی قوم کو سپر پاور بناتی تھی۔ مگر جاپان نے اپنی مثال سے ثابت کیا کہ اقتصادی ترقی کے ذریعہ بھی ایک قوم سپر پاور بن سکتی ہے۔ مزید یہ کہ فوجی طاقت کے بل پر سپر پاور بننے والی قوم ایک حد کے بعد اپنی طاقت کھودیتی ہے۔ جب کہ اقتصادی سپر پاور کے لیے اس قسم کی کوئی حد نہیں۔
جاپان اقتصادی سپر پاور کیسے بنا۔ وہ نعروں کی سیاست یا مطالبات کے ہنگاموں کے ذریعہ سپر پاور نہیں بنا۔ بلکہ خاموش عمل کے ذریعہ سپر پاور بنا۔ اس خاموش عمل کا اہم ترین جزو یہ تھا کہ پہلے اس نے اپنے لیے چھوٹی حیثیت کو تسلیم کیا ، اس کے بعد اس کو بڑی حیثیت ملی۔ ٹوکیو کے ایک مقیم صحافی مسٹر سبھاش چکرورتی کا ایک جائزہ ٹائمز آف انڈیا (۲۷ اپریل، ۱۹۹۰) میں شائع ہوا ہے۔ اس کا ایک جزو یہاں قابل نقل ہے :
Japan, having long recognised the U.S. as the most important external actor in Asia, is seeking to share power and influence with it without compromising Japan's own self-interests or ambitions. جاپان لمبی مدت تک امریکہ کی یہ حیثیت تسلیم کرتا رہا کہ وہ ایشیا میں سب سے زیادہ اہم خارجی عامل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس کے بعد اب وہ وقت آیا ہے کہ جاپان اپنے مفادات یا اپنے حوصلوں کے معاملہ میں مصالحت کیے بغیر امریکہ کے ساتھ طاقت اور اثر میں حصہ دار بننے کی کوشش کرے (صفحہ ۸)
یہی موجودہ دنیا میں ترقی کا اصول ہے ۔ یہاں بڑا بننے کے لیے پہلے چھوٹا بننا پڑتا ہے ۔ غلبہ حاصل کرنے کے لیے پہلے مغلوبیت پر راضی ہونا پڑتا ہے ۔ یہاں آگے بڑھنا اس کے لیے مقدر ہے جو آگے بڑھنے سے پہلے پیچھے ہٹنے کے مرحلہ کو برداشت کرے۔
اس دنیا میں کھونا پہلے ہے اور پانا اس کے بعد۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues