ایک اور مثال
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۰، صفحہ ۳۰
چپٹی پلیٹ کی طرح ہے اور وہ ایک بڑے کچھوے کی پشت پرٹھی ہوئی ہے۔ سائنس داں برتری کے احساس کے تحت مسکرایا اور پھر کہا کہ یہ کچھواکس چیز کے اوپر ہے۔ خاتون نے کہا کہ نوجوان، تم بہت چالاک ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کچھوے کے نیچے کچھو اہے، اور اسی طرح یہ سلسلہ نیچے تک چلاگیا ہے۔ بہت سے لوگ دنیا کی اس تصویر کو مضحکہ خیز سمجھیں گے کہ یہاں کچھووں کا ایک لامتناہی کھمبا قائم ہے۔ مگر ہم کیوں یہخیال کرتے ہیں کہ ہمارا علم اس سے بہتر ہے۔ ہم دنیا کی بابت کیا جانتے ہیں اور کس طرح جانتے ہیں۔ دنیا کہاں سے آئی اور وہ کہاں جارہی ہے۔ کیا دنیا کا ایک آغاز ہے، اور اگر ایسا ہے تو اس سے پہلے کیا پیش آیا۔ وقت کی نوعیت کیا ہے۔ کیا وہ کبھی ختم ہو جائے گا۔ علم طبیعیات کے حالیہ انکشافات جونی ٹکنالوجی کے ذریعہ ممکن ہوئے ہیں، وہ ان میں سے بعض سوالات کا کچھ جواب دیتے ہیں۔ یہ جواب آئندہ اتنے ہی بدیہی دکھائی دے سکتے ہیں جتنا کہ زمین کا سورج کے گرد گھومنا یا شاید وہ اتنے ہی مضحکہ خیز نظر آئیں جت کہ کچھووں کا کھمبا۔ صرف وقت ہی اس کے بارہ میں کچھ بتا سکتا ہے:
ایک اور مثال
اسٹفن ہاکنگ نے اپنی کتاب میں مختلف پہلوؤں سے بحث کرکے دکھایا ہے کہ کائنات نے بے شمار امکانی ماڈلوں میں سے اسی ایک ماڈل کو اختیار کیا ہے جو انسان جیسی مخلوق کی زندگی اور
‹ Previous page Next page › Contents of November 1990 All issues