صبروبرداشت
الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۴
صبروبرداشت
حضرت ابوسعید سعد بن مالک بن سنان الخدری کی ایک روایت ہے جس کو امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے ۔ اس کا ایک جز یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کو اللہ کی طرف سے صبر سے زیادہ بہتر اور زیادہ بڑا عطیہ نہیں دیا گیا۔ وَمَا اعطى أحد عطاءً خيراً أو وسع مِن الصَّبرِ صبر تمام کامیابیوں کی کنجی ہے ۔ خواہ اس کا تعلق دنیا کی کامیابی سے ہو یا آخرت کی کامیابی سے ۔ پیغمبر اسلام کی یہ تعلیم اعلیٰ ترین فطری صداقت تھی ۔ چنانچہ وہ ساری دنیا میں مختلف شکلوں میں دہرائی گئی۔ شیخ سعدی شیرازی (۱۲۹۲ - ۱۲۱۳) نے اس کو فارسی زبان میں اس طرح بیان کیا کہ صبر کڑوا ہے ، مگر اس کا پھل میٹھا ہے :
صبر تلخ است ولیکن بر شیریں دارد
اس کے بعد زندگی کا یہ قیمتی سبق عالمی ادب میں پہنچا اور ہر ملک میں اس کو کسی نہ کسی صورت سے نقل کیا گیا ۔ مثلاً فرانسیسی مفکر روسو (۱۷۷۸ - ۱۷۱۲) نے یہی بات دوبارہ اس طرح کہی کہ برداشت کڑوی چیز ہے مگر اس کا پھل میٹھا ہوتا ہے :
Patience is bitter, but its fruit is sweet.
صبر کا کڑواپن چند منٹ کے لیے ہوتا ہے ، مگر بے صبری کے نتیجہ میں جو کڑواپن آتا ہے وہ برسوں تک بھی ختم نہیں ہوتا ۔ صبر کا جھٹکا ذہن کے اندر صرف نفسیاتی طور پر سہنا پڑتا ہے ، مگر بے صبری وہ چیز ہے جو آخرکار جانوں کو ہلاک کرتی ہے ۔ جائیدادوں کو برباد کرتی ہے ۔ وہ آدمی کو آگ اور خون کے دریا میں پہنچا دیتی ہے ۔
صبر ایک اصول ہے جبکہ بے صبری صرف ایک منفی رد عمل ہے۔ صبر کرنے والا اپنے آپ کو با اصول انسان ثابت کرتا ہے ۔ اس کو اندرونی طور پر اطمینان کی یہ لذت ملتی ہے کہ وہ کٹھن گھڑیوں میں بھی اصول پر قائم رہا ۔ اس کے برعکس بے صبر انسان کے حصہ میں یہ بد نصیبی آتی ہے کہ وہ وقتی طور پر بھڑک کر ایک جذباتی کارروائی کرے ، اور پھر ساری عمر پچھتاتا رہے کہ کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues