Al-Risala · February 1990 · page 6

مومن کا طریقہ

الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۶

مومن کا طریقہ

ابو البرکات علوی صاحب (پیدائش ۱۹۲۹) اعظم گڑھ کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ نومبر ۱۹۴۶ میں دیوبند گئے تھے۔ وہاں وہ چند روز مولانا حسین احمد مدنی (۱۹۵۶-۱۸۸۹) کے مہمان رہے۔ یہ زمانہ وہ تھا جب کہ کانگریسی مسلمانوں اور مسلم لیگ کے درمیان اختلاف اپنے آخری عروج پر تھا۔ مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے پر جوش مسلمان مولانا حسین احمد مدنی کے سخت ترین مخالف تھے۔ مولانا مدنی کے خلاف جھوٹے الزام لگانا، ان کے ساتھ ذلت آمیز سلوک کرنا، ان کے دینی وقار کو مجروح کرنا، غرض ان کے خلاف ہر زیبا حرکت کو انھوں نے اپنے لیے جائز کر لیا تھا۔

نفرت اور اشتعال کی یہی فضا تھی جب کہ ابو البرکات علوی نے دیوبند کا سفر کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ایک روز جب کہ مولانا مدنی کے مہمان خانہ میں تھے۔ مولانا اپنی چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ اس وقت ایک شخص آیا۔ بظاہر وہ مولانا مدنی کے مریدوں میں سے تھا ۔ اس نے کہا: مولانا، مسٹر اعظم مسٹر جناح کا اللہ کے یہاں کیا حشر ہو گا۔

ابو البرکات علوی کا بیان ہے کہ مولانا حسین احمد مدنی یہ سوال سن کر کچھ دیر چپ رہے۔ اس کے بعد سنجیدہ انداز میں فرمایا: اگر اس کے ارادے نیک ہیں تو اس کا اجر بھی نیک ہوگا۔ اور اگر اس کے ارادے نیک نہیں ہیں تو اس کا اجر بھی نیک نہیں ہوگا۔

یہ مثال بتاتی ہے کہ سخت ترین شکایت اور اختلاف کی حالت میں بھی مومن کا طریقہ کیا ہوتا ہے۔ مومن اللہ سے ڈرنے والا انسان ہے۔ اس کو یقین ہوتا ہے کہ اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔ اور اس کے ہر قول اور فعل کا اس سے حساب لینے والا ہے۔ یہ احساس اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ایک حد پر قائم رہے ، وہ ہر حال میں انصاف کی بات کہے۔

مولانا حسین احمد مدنی مسٹر جناح کے سخت مخالف تھے۔ دونوں کے درمیان تعلقات اشتعال انگیزی کی حد تک خراب ہو چکے تھے۔ اس کے باوجود جب مولانا کو مسٹر جناح کے بارے میں بولنا ہوا تو وہ جدیت کے دائرہ میں رہ کر بولے۔ اپنے قابل نفرت دشمن کے بارہ میں بھی وہ انصاف کی حد سے باہر نہ گئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues

Printed page